سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 86
۸۶ نہ دیتا۔علاوہ ازیں یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ طواف میں صرف حجر اسود والے کونے کو ہی بوسہ نہیں دیا جاتا بلکہ اس کے ساتھ والے دوسرے کونے کو بھی بوسہ دیا جاتا ہے اور باقی دوکونوں کو بوسہ دینا اس لیے ترک کیا جاتا ہے کہ بوجہ حطیم کی جگہ چھوٹ جانے کے وہ اپنی اصلی جگہ پر قائم نہیں رہے۔اس طرح بھی حجر اسود کی کوئی خصوصیت نہیں رہتی ہے غرض حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل نے مل کر ان گھڑت پتھروں کا ایک بے چھت چوکور کوٹھا تیار کیا جس کی بلندی نو ہاتھ تھی اور طول ۳۲ ہاتھ تھا اور عرض ۲۲ ہاتھ یا یہی خانہ کعبہ ہے جو آج مربع خلائق ہے۔دُعائے خلیل قرآن شریف میں اس تعمیر کا ذکر ان الفاظ میں آتا ہے : إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبُرَكًا وَهُدًى لِلْعَلَمِينَ وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرهِمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَاسْمُعِيلُ رَبَّنَا تَقَبَّلُ مِنا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ: رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُسْلِمَةٌ لَّكَ وَاَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ ) رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَيْتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الكتب وو وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ ۖ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ : بے شک پہلا گھر جو لوگوں کے فائدہ کی غرض سے خدا کی عبادت کے لئے بنایا گیا وہ وہی ہے جو وادی بکہ میں ہے جو برکت دیا گیا ہے اور ہدایت کا باعث بننے والا ہے سارے جہان کے لئے۔اور یا دکر و جب ابراہیم اور اسمعیل اس گھر کی بنیاد میں اُٹھا رہے تھے اُس وقت وہ اللہ سے دُعائیں کرتے تھے کہ اے ہمارے رب تو ہماری طرف سے اس خدمت کو قبول کر۔بے شک تو بہت سننے والا اور جاننے والا ہے۔اور اے ہمارے رب تو ہم دونوں کو اپنے فرمانبردار بندے بنا اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک فرمانبردار جماعت پیدا کر اور ہم کو عبادت اور حج کے طریقے بتا اور ہماری طرف رجوع برحمت ہو۔بے شک تو رحمت کے ساتھ رجوع کرنے والا اور بہت مہربان ہے۔اے ہمارے رب تو مبعوث کیجیوان میں اپنا ایک رسول انہی میں سے جو تیری آیات اُن کو سنائے اور ان کو کتاب اور حکمت سکھائے اور ان کو : بخاری کتاب الحج : تاریخ مکه از رقی ل : بخاری کتاب وجوب الحج : سورۃ آل عمران : ۹۷ ۵: سورة بقره آیت ۱۲۸ تا ۱۳۰