سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 84
۸۴ لونڈی اور لڑکی ہر دو کے ہیں۔لیکن اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ حضرت ہاجرہ کبھی غلامی کی قید میں رہی تھیں تو پھر بھی اس بات سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا کہ جب حضرت ابراہیم نے انہیں اپنے عقد میں لے لیا تو انہیں بیوی کے طور رکھا تھا نہ کہ لونڈی کے طور پر۔اور اگر محض ایک عرصہ کے لیے قید غلامی میں رہنا قابلِ اعتراض ہے تو ہمارے معترضین کو یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اس داغ سے حضرت سارہ بھی محفوظ نہیں رہیں۔کیونکہ یہ ثابت ہے کہ جب حضرت ابرا ہیم مصر میں تشریف لے گئے تو مصر کے بادشاہ نے حضرت سارہ کو حضرت ابراہیم سے چھین کر اپنے حرم میں داخل کر لیا تھا اور پھر انہیں کچھ عرصہ کے بعد رہائی نصیب ہوئی تھی۔یہ اور بنو اسرائیل کے جد امجد حضرت یوسف بن یعقوب کا مصر میں غلام بن کر فروخت ہونا اور ایک عرصہ دراز تک اسی حالت میں زندگی گزارنا تو ایک ایسا واقعہ ہے کہ جس سے سکولوں کے کم سن بچے بھی واقف ہیں۔پس اگر حضرت ہاجرہ کی زندگی کا کوئی حصہ قید غلامی میں بسر بھی ہوا تو یہ کوئی طعن کی بات نہیں ہے۔لیکن حق یہ ہے کہ حضرت ہاجرہ کا لونڈی ہونا ہی غیر ثابت ہے بلکہ جو بات ثابت ہوتی ہے وہ صرف اس قدر ہے کہ جب مصر کا بادشاہ اپنے فعل شنیع کے بعد حضرت ابراہیم اور ان کی بیوی سارہ سے مرعوب ہوا تو اس نے نہ صرف حضرت سارہ کو آزاد کر دیا بلکہ اپنے حرم سے ایک شریف اور ہونہار لڑکی بھی حضرت سارہ اور حضرت ابراہیم کے پیش کی اور وہ لڑکی یہی حضرت ہاجرہ ہیں۔بائیبل اور اسلامی روایات ہر دو میں جس طرح شاہ مصر کا حضرت ابراہیم اور حضرت سارہ سے مرعوب ہونا اور اُن کی بزرگی اور قوتِ رُوحانی کا قائل ہونا بیان ہوا ہے، اس سے یہ ہرگز بعید از قیاس نہیں کہ ہاجرہ خودشاہ مصر کے قریبی عزیزوں میں سے ایک لڑکی ہوں جو اُس نے اپنے اس فعل کی تلافی میں جو حضرت سارہ کے بارے میں اُس سے سرزد ہوا حضرت ابراہیم اور سارہ کی خدمت میں پیش کر دی تھی جس کی وجہ سے وہ بعد میں لونڈی قرار دے دی گئی۔یہ صرف قیاس ہی نہیں ہے بلکہ بعض پرانے محققین نے اسے بطور ایک حقیقت کے بیان کیا ہے۔چنانچہ ایک یہودی عالم جس کا نام دبشلوم ہے اپنی تو رات کی تفسیر میں یہاں تک لکھتا ہے کہ ہاجرہ خودشاہ مصر کی اپنی لڑکی تھی جو اس نے سارہ کی کرامت دیکھ کر اس کی خدمت کے لیے پیش کر دی تھی۔الغرض لونڈی ہونے کا الزام بالکل غلط اور نا درست ہے، لیکن اگر بالفرض غلامی ثابت بھی ہو تو یقیناً ایسی غلامی کسی داغ کا باعث نہیں ہے کہ ایک بے گناہ شخص کو جبراً اس کی آزادی سے محروم کر کے قید میں پیدائش باب ۲ ایت ۱۴ تا ۲۰ نیز چیمبرس انسائیکلو پیڈیا ایڈیشن ۱۹۳۰ء جلد اصفحہ ۱۸ کالم۲ : ارض القرآن جلد ۲ صفحه ۴۱