سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 581
۵۸۱ دوسری طرف صفوان بن امیہ اپنے قیدی زید بن دشتہ کو ساتھ لے کر حرم سے باہر گیا۔رؤساء قریش کا ایک مجمع ساتھ تھا۔باہر پہنچ کر صفوان نے اپنے غلام نسطاس کو حکم دیا کہ زید کو قتل کر دو۔نسطاس نے آگے بڑھ کر تلوار اٹھائی۔اس وقت ابوسفیان بن حرب رئیس مکہ نے جو تماشائیوں میں موجود تھا آگے بڑھ کر زید سے کہا۔سچ کہو کیا تمہارا دل یہ نہیں چاہتا کہ اس وقت تمہاری جگہ ہمارے ہاتھوں میں محمد ہوتا جسے ہم قتل کرتے اور تم بچ جاتے اور اپنے اہل وعیال میں خوشی کے دن گزارتے ؟ زید کی آنکھوں میں خون اتر آیا اور وہ غصہ میں بولے۔ابوسفیان تم یہ کیا کہتے ہو۔خدا کی قسم میں تو یہ بھی نہیں پسند کرتا کہ میرے بچنے کے عوض رسول اللہ کے پاؤں میں ایک کانٹا تک چھے۔ابوسفیان بے اختیار ہوکر بولا۔واللہ میں نے کسی شخص کو کسی شخص کے ساتھ ایسی محبت کرتے نہیں دیکھا جیسی کہ اصحاب محمد کو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے ہے۔اس کے بعد نسطاس نے زید کو شہید کر دیا ہے اسی واقعہ رجیع کی ضمن میں یہ روایت بھی آتی ہے کہ جب قریش مکہ کو یہ اطلاع ملی کہ جولوگ بنولحیان کے ہاتھ سے رجیع میں شہید ہوئے تھے ان میں عاصم بن ثابت بھی تھے۔تو چونکہ عاصم نے بدر کے موقع پر قریش کے ایک بڑے رئیس کو قتل کیا تھا ، اس لئے انہوں نے رجیع کی طرف خاص آدمی روانہ کئے اور ان آدمیوں کو تاکید کی کہ عاصم کا سر یا جسم کا کوئی عضو کاٹ کر اپنے ساتھ لائیں تا کہ انہیں تسلی ہو اور ان کا جذبہ انتقام تسکین پائے۔ایک اور روایت میں آتا ہے کہ جس شخص کو عاصم نے قتل کیا تھا اس کی ماں نے یہ نذر مانی تھی کہ وہ اپنے بیٹے کے قاتل کی کھوپڑی میں شراب ڈال کر پئے گی یے لیکن خدائی تصرف ایسا ہوا کہ یہ لوگ وہاں پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ زنبوروں اور شہد کی مکھیوں کے جھنڈ کے جھنڈ عاصم کی لاش پر ڈیرہ ڈالے بیٹھے ہیں اور کسی طرح وہاں سے اٹھنے میں نہیں آتے۔ان لوگوں نے بڑی کوشش کی کہ یہ زنبور اور مکھیاں وہاں سے اڑ جائیں مگر کوئی کوشش کامیاب نہ ہوئی۔آخر مجبور ہوکر یہ لوگ خائب و خاسر واپس لوٹ گئے۔" اس کے بعد جلد ہی بارش کا ایک طوفان آیا اور عاصم کی لاش کو وہاں سے بہا کر کہیں کا کہیں لے گیا۔لکھا ہے کہ عاصم نے مسلمان ہونے پر یہ عہد کیا تھا کہ آئندہ وہ ہر قسم کی مشرکانہ چیز سے قطعی پر ہیز کریں گے حتی کہ مشرک کے ساتھ چھوئیں گے بھی نہیں۔حضرت عمرؓ کو جب ان کی شہادت اور اس واقعہ کی اطلاع ہوئی تو کہنے لگے۔خدا بھی اپنے بندوں کے جذبات کی کتنی پاسداری فرماتا ہے موت کے ا : ابن ہشام وابن سعد : فتح الباری جلد ے صفحہ ۲۹۵ بخاری حالات رجیع بخاری حالات رجیع و فتح الباری جلد ۲ صفحه ۲۹۵