سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 582
۵۸۲ بعد بھی اس نے عاصم کے عہد کو پورا کر وایا اور مشرکین کے مس سے انہیں محفوظ رکھا۔واقعہ رجیع کی خبر سے جو صدمہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب کو پہنچ سکتا تھا وہ ظاہر ہے مگر پیشتر اس کے کہ یہ المناک خبر مدینہ میں پہنچتی ایک اور خطرناک واقعہ پیش آگیا۔اس لئے قبل اس کے کہ ہم واقعہ رجیع کے متعلق کوئی تبصرہ کریں اس واقعہ کا بیان کر دینا ضروری ہے کیونکہ یہ دونوں واقعات ایک ہی نوعیت کے تھے اور ان کی اطلاع بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک ہی وقت میں موصول ہوئی تھی۔واقعہ بئر معونہ صفر ہجری قبائل سلیم و غطفان وغیرہ کی شرارتوں اور فتنہ انگیزیوں کا ذکر و پرگزر چکا ہے یہ قبائل عرب کے وسط میں سطح مرتفع نجد پر آباد تھے اور مسلمانوں کے خلاف قریش مکہ کے ساتھ ساز باز رکھتے تھے اور آہستہ آہستہ ان شریر قبائل کی شرارت بڑھتی جاتی تھی اور سارا سطح مرتفع نجد اسلام کی عداوت کے زہر سے مسموم ہوتا چلا جارہا تھا۔چنانچہ ان ایام میں جن کا ہم اس وقت ذکر کر رہے ہیں ایک شخص ابو براء عامری جو وسط عرب کے قبیلہ بنو عامر کا ایک رئیس تھا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ملاقات کے لئے حاضر ہوا۔آپ نے بڑی نرمی اور شفقت کے ساتھ اسے اسلام کی تبلیغ فرمائی اور اس نے بھی بظاہر شوق اور توجہ کے ساتھ آپ کی تقریر کو سنا ،مگر مسلمان نہیں ہوا۔البتہ اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عرض کیا کہ آپ میرے ساتھ اپنے چند اصحاب نجد کی طرف روانہ فرما ئیں جو وہاں جا کر اہل نجد میں اسلام کی تبلیغ کریں اور مجھے امید ہے کہ نجدی لوگ آپ کی دعوت کو رد نہیں کریں گے۔آپ نے فرمایا مجھے تو اہل نجد پر اعتماد نہیں ہے۔ابو براء نے کہا کہ آپ ہر گز فکر نہ کریں۔میں ان کی حفاظت کا ضامن ہوتا ہوں۔چونکہ ابو براء ایک قبیلہ کا رئیس اور صاحب اثر آدمی تھا آپ نے اس کے اطمینان دلانے پر یقین کر لیا اور صحابہ کی ایک جماعت نجد کی طرف روانہ فرما دی ہے یہ تاریخ کی روایت ہے۔بخاری میں آتا ہے کہ قبائل رعل اور ذکوان وغیرہ (جو مشہور قبیلہ بنوسلیم کی شاخ تھے ) ان کے چند لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اسلام کا اظہار کر کے درخواست کی کہ ہماری قوم میں سے جو لوگ اسلام کے دشمن ہیں ان کے خلاف ہماری امداد کے لئے یہ تشریح نہیں کی کہ کس قسم کی امداد، آیا تبلیغی یا فوجی چند آدمی روانہ کئے جائیں۔جس پر آپ نے یہ ابن ہشام : ابن ہشام وابن سعد زرقانی جلد ۲ صفحہ ۷۹ آخر حالات بئر معونہ