سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 580 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 580

۵۸۰ حالانکہ ان دنوں میں مکہ میں انگوروں کا نام ونشان نہیں تھا اور خبیب آہنی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا۔وہ کہتی تھی کہ میں سمجھتی ہوں کہ یہ خدائی رزق تھا جو خبیب کے پاس آتا تھا۔مگر رؤسائے قریش کی قلبی عداوت کے سامنے رحم و انصاف کا جذ بہ خارج از سوال تھا۔چنانچہ ابھی زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ بنو الحارث کے لوگ اور دوسرے رؤساء قریش خبیب کو قتل کرنے اور اس کے قتل پر جشن منانے کے لئے اسے ایک کھلے میدان میں لے گئے۔خبیب نے شہادت کی بو پائی تو قریش سے نہایت الحاح کے ساتھ کہا کہ مرنے سے پہلے مجھے دو رکعت نماز پڑھ لینے دو۔قریش نے جو غالباً اسلامی نماز کے منظر کو بھی اس تماشہ کا حصہ بنانا چاہتے تھے اجازت دے دی اور خبیب نے بڑی توجہ اور حضور قلب کے ساتھ دورکعت نماز ادا کی اور پھر نماز سے فارغ ہو کر قریش سے کہا کہ میرا دل چاہتا تھا کہ میں اپنی نماز کو اور لمبا کروں لیکن پھر مجھے یہ خیال آیا کہ کہیں تم لوگ یہ نہ سمجھو کہ میں موت کو پیچھے ڈالنے کے لئے نماز کو لمبا کر رہا ہوں اور پھر خبیب یہ اشعار پڑھتے ہوئے آگے جھک گئے۔وَمَا اَنْ أُبَالِى حِينَ أَقْتَلُ مُسْلِمًا عَلى أَي شِيِّ كَانَ لِلَّهِ مَصْرَعِى وَذَالِكَ فِي ذَاتِ الا لَهِ وَإِنْ يَشَاء يُبَارِكْ عَلَى أَوْصَالِ شَلْوِ مُمَزَّعِ یعنی ” جبکہ میں اسلام کی راہ میں اور مسلمان ہونے کی حالت میں قتل کیا جارہا ہوں تو مجھے یہ پروانہیں ہے کہ میں کس پہلو پر قتل ہو کر گروں۔یہ سب کچھ خدا کے لئے ہے۔اور اگر میرا خدا چاہے گا تو میرے جسم کے پارہ پارہ ٹکڑوں پر برکات نازل فرمائے گا۔غالباً ابھی خبیب کی زبان پر ان اشعار کے آخری الفاظ گونج ہی رہے تھے کہ عقبہ بن حارث نے آگے بڑھ کر وار کیا اور یہ عاشق رسول خاک پر تھا۔دوسری روایت میں یہ ہے کہ قریش نے خبیب کو ایک درخت کی شاخ سے لٹکا دیا تھا اور پھر نیزوں کی چوکیں دے دے کر قتل کیا۔اس مجمع میں ایک شخص سعید بن عامر بھی شریک تھا۔یہ شخص بعد میں مسلمان ہو گیا اور حضرت عمر کے زمانہ خلافت تک اس کا یہ حال تھا کہ جب کبھی اسے خبیب کا واقعہ یاد آتا تھا تو اس پر غشی کی حالت طاری ہو جاتی تھی۔بخاری کتاب الجہا دو کتاب المغازی ابن ہشام بخاری کتاب المغازی و کتاب الجہاد