سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 579
۵۷۹ کیا بالآخر لڑتے لڑتے شہید ہوئے۔جب سات صحا بہ مارے گئے اور صرف خبیب بن عدی اور زید بن دشنہ اور ایک اور صحابی باقی رہ گئے تو کفار نے جن کی اصل خواہش ان لوگوں کو زندہ پکڑنے کی تھی۔پھر آواز دے کر کہا کہ اب بھی نیچے اتر آؤ۔ہم وعدہ کرتے ہیں کہ تمہیں کوئی تکلیف نہیں پہنچائیں گے۔اب کی دفعہ یہ سادہ لوح مسلمان ان کے پھندے میں آکر نیچے آتر آئے ، مگر نیچے اترتے ہی کفار نے ان کو اپنی تیر کمانوں کی تندیوں سے جکڑ کر باندھ لیا اور اس پر خبیب اور زید کے ساتھی سے جن کا نام تاریخ میں عبداللہ بن طارق مذکور ہوا ہے صبر نہ ہوسکا اور انہوں نے پکار کر کہا۔یہ تمہاری پہلی بد عہدی ہے۔اور نہ معلوم تم آگے چل کر کیا کرو گے اور عبداللہ نے ان کے ساتھ چلنے سے انکار کر دیا۔جس پر کفار تھوڑی دور تک تو عبد اللہ کو گھسیٹتے ہوئے اور زدو کوب کرتے ہوئے لے گئے اور پھر انہیں قتل کر کے وہیں پھینک دیا اور چونکہ اب ان کا انتقام پورا ہو چکا تھا۔وہ قریش کو خوش کرنے کے لئے نیز روپے کی لالچ سے خبیب اور زید کو ساتھ لے کر مکہ کی طرف روانہ ہو گئے اور وہاں پہنچ کر انہیں قریش کے ہاتھ فروخت کر دیا۔چنانچہ خبیب کو تو حارث بن عامر بن نوفل کے لڑکوں نے خرید لیا کیونکہ خبیب نے بدر کی جنگ میں حارث کو قتل کیا تھا۔اور زید کو صفوان بن امیہ نے خرید لیا۔ابھی یہ دونوں صحابی قریش کے پاس غلامی کی حالت میں قید تھے کہ ایک دن حبیب نے حارث کی ایک لڑکی سے اپنی ضرورت کے لئے ایک استرا مانگا اور اس نے دے دیا۔جب یہ استر اخبیب کے ہاتھ میں تھا تو بنت حارث کا ایک خوردسالہ بچہ کھیلتا ہوا خبیب کے پاس آ گیا اور خبیب نے اسے اپنی ران پر بٹھا لیا۔ماں نے جب دیکھا کہ خبیب کے ہاتھ میں استرا ہے اور ران پر اس کا بچہ بیٹھا ہے تو وہ کانپ اٹھی اور اس کے چہرہ کا رنگ فق ہو گیا۔خبیب نے اسے دیکھا تو اس کے خوف کو سمجھتے ہوئے کہا ” کیا تم یہ خیال کرتی ہو کہ میں اس بچے کو قتل کر دوں گا؟ یہ خیال نہ کرو۔میں انشاء اللہ ایسا نہیں کروں گا۔”ماں کا کملایا ہوا چہرہ خبیب کے ان الفاظ سے شگفتہ ہو گیا۔یہ عورت خبیب کے اعلیٰ اخلاق سے اس قدر متاثر تھی کہ وہ بعد میں ہمیشہ کہا کرتی کہ ” میں نے خبیب کا سا اچھا قیدی کوئی نہیں دیکھا۔وہ یہ بھی کہا کرتی تھی کہ ”میں نے ایک دفعہ حبیب کے ہاتھ میں ایک انگور کا خوشہ دیکھا تھا جس سے وہ انگور کے دانے توڑ تو ڑ کر کھاتا تھا بخاری کتاب المغازی حالات رجیع نیز کتاب الجہاد بخاری : ابن ہشام وابن سعد