سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 578
۵۷۸ سے متوحش خبریں آرہی تھیں لیکن سب سے زیادہ خطرہ آپ کو قریش مکہ کی طرف سے تھا جو جنگ اُحد کی وجہ سے بہت دلیر اور شوخ ہورہے تھے اس خطرہ کو محسوس کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ماہ صفر ۴ ہجری میں اپنے دس صحابیوں کی ایک پارٹی تیار کی اور ان پر عاصم بن ثابت کو امیر مقرر فر مایا اور ان کو یہ حکم دیا کہ وہ خفیہ خفیہ مکہ کے قریب جا کر قریش کے حالات دریافت کریں اور ان کی کارروائیوں اور ارادوں سے آپ کو اطلاع دیں۔لیکن ابھی یہ پارٹی روانہ نہیں ہوئی تھی کہ قبائل عضل اور قارة کے چند لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہمارے قبائل میں بہت سے آدمی اسلام کی طرف مائل ہیں آپ چند آدمی ہمارے ساتھ روانہ فرمائیں جو ہمیں مسلمان بنا ئیں اور اسلام کی تعلیم دیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کی یہ خواہش معلوم کر کے خوش ہوئے اور وہی پارٹی جو خبر رسانی کے لئے تیار کی گئی تھی ان کے ساتھ روانہ فرما دی تے لیکن دراصل جیسا کہ بعد میں معلوم ہوا یہ لوگ جھوٹے تھے اور بنولحیان کی انگیخت پر مدینہ میں آئے تھے جنہوں نے اپنے ریکس سفیان بن خالد کے قتل کا بدلہ لینے کے لئے یہ چال چلی تھی کہ اس بہانہ سے مسلمان مدینہ سے نکلیں تو ان پر حملہ کر دیا جاوے اور بنولحیان نے اس خدمت کے معاوضہ میں عضل اور قارہ کے لوگوں کے لئے بہت سے اونٹ انعام کے طور پر مقرر کئے تھے۔جب عضل اور قارہ کے یہ غدار لوگ عسفان اور مکہ کے درمیان پہنچے تو انہوں نے بنو لحیان کو خفیہ خفیہ اطلاع بھجوا دی کہ مسلمان ہمارے ساتھ آرہے ہیں تم آجاؤ۔جس پر قبیلہ بنولحیان کے دوسونو جوان جن میں سے ایک سو تیرانداز تھے مسلمانوں کے تعاقب میں نکل کھڑے ہوئے اور مقام رجیع میں ان کو آدبایا۔دس آدمی دوسوسپاہیوں کا کیا مقابلہ کر سکتے تھے لیکن مسلمانوں کو ہتھیار ڈالنے کی تعلیم نہیں دی گئی تھی۔فوراً یہ صحابی ایک قریب کے ٹیلہ پر چڑھ کر مقابلہ کے واسطے تیار ہو گئے۔کفار نے جن کے نزدیک دھوکا دینا کوئی معیوب فعل نہیں تھا ان کو آواز دی کہ تم پہاڑی پر سے نیچے اتر آؤ ہم تم سے پختہ عہد کرتے ہیں کہ تمہیں قتل نہیں کریں گے۔عاصم نے جواب دیا کہ ”ہمیں تمہارے عہد و پیمان کا کوئی اعتبار نہیں ہے ہم تمہاری اس ذمہ داری پر نہیں اتر سکتے۔اور پھر آسمان کی طرف منہ اٹھا کر کہا۔”اے خدا! تو ہماری حالت کو دیکھ رہا ہے۔اپنے رسول کو ہماری اس حالت سے اطلاع پہنچا دے۔غرض عاصم اور اس کے ساتھیوں نے مقابلہ بخاری کتاب الجہاد باب هل يستامر الرجل وكتاب المغازی حالات رجیع و فتح الباری جلد ۲ صفحه ۲۹۱ : ابن ہشام وابن سعد واقدی حالات واقعہ رجیع وزرقانی ۳: زرقانی جلد ۲ صفحه ۶۵