سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 473 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 473

۴۷۳ اجازت دیتے تھے وہ اس قسم کے اعمال کا حکم کس غرض وغایت کے ماتحت دیتا ہے۔سو ہم قرآن شریف میں دیکھتے ہیں کہ نکاح کی اغراض میں سے جو غرض مرد و عورت کے مخصوص تعلق کے ضمن میں بیان کی گئی ہے اس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: أُحِلَّ لَكُمْ مَّا وَرَاءَ ذَلِكُمْ اَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُمْ مُّحْصِنِينَ غَيْرَ مُسْفِحِيْنَ یعنی اے مسلمانو! فلاں فلاں قریبی رشتہ دار عورتوں کو چھوڑ کر باقی سب عورتیں تمہارے لئے حلال اور جائز کی جاتی ہیں یہ کہ تم اپنے اموال میں سے ان کے مہر مقرر کر کے ان کے ساتھ نکاح کرو۔مگر تمہارے نکاح کی غرض یہ ہونی چاہئے کہ تم اس کے ذریعہ اپنے آپ کو بدیوں اور بیماریوں سے محفوظ کر لو اور یہ غرض ہر گز نہیں ہونی چاہئے کہ تم شہوت رانی کا طریق اختیار کرو۔“ اس تعلیم کا صحابہ کرام کی طبیعت پر اس قدر گہرا اثر تھا کہ اس انسان کی طرح جو ایک بات سے متاثر ہو کر اس کے انتہائی نقطہ کی طرف جھک جاتا ہے صحابہ کرام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عورتوں سے بالکل ہی مجتنب ہو جانے کی اجازت چاہتے تھے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو فطرت صحیحہ کے مالک تھے اور اسلامی تعلیم کی اصل غرض و غایت کو سمجھتے ہوئے اپنے متبعین کو افراط وتفریط کی راہوں سے بچا کر اعتدال کے مقام پر قائم رکھنا چاہتے تھے انہیں اس طریق سے باز رکھتے تھے۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے: عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَاصِ يَقُولُ رَدَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ مَطْعُونَ التَّبَتُلَ وَلَوْ أَذِنَ لَهُ لاَ خُتَصَيْنَا - یعنی ” سعد بن ابی وقاص روایت کرتے ہیں کہ عثمان بن مظعون نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عورتوں سے بالکل ہی علیحدہ ہو جانے کی اجازت چاہی مگر آپ نے اس کی اجازت نہیں دی اور اگر آپ اجازت دے دیتے تو ہم لوگ تیار تھے کہ اپنے آپ کو و یا بالکل خصی ہی کر لیتے۔“ ان حالات میں تعیش وغیرہ کا سوال تو بالکل خارج از بحث ہے اور اس قسم کی بدظنی وہی شخص کر سکتا ہے جو یا تو اسلامی تعلیم اور اسلامی تاریخ سے قطعی طور پر نا واقف ہوا اور یا وہ خود اس گند میں اس حد تک مبتلا ہو کہ اسے دوسروں کے اعمال میں بھی اس گندی نیت کے سوا کوئی اور نیت نظر نہ آتی ہو۔مگر بہر حال یہ سوال قابل جواب ہے کہ لونڈیوں کے متعلق اسلامی تعلیم کیا ہے؟ سو اس کے متعلق سب سے پہلے تو یہ جاننا چاہئے ا : سورة النساء : ۲۵ : بخاری کتاب النکاح