سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 474
۴۷۴ کہ غلامی کے عام احکام میں غلام اور لونڈی کے معاملہ میں کوئی فرق نہیں ہے۔یعنی جو حقوق غلاموں کے ہیں وہی لونڈیوں کے بھی ہیں۔البتہ یہ فرق ضرور ہے کہ لونڈیوں کو اچھی تعلیم و تربیت دینے اور انہیں آزاد کر کے اپنے عقد میں لے لینے کے بارے میں اسلام نے زیادہ تاکیدی سفارش کی ہے۔اور جب تک لونڈیاں غلامی کی حالت میں رہیں اس وقت تک ان کے لئے بھی یہ پسند کیا گیا ہے کہ آزا دلوگ ان کے ساتھ رشتے کریں تا کہ اس رشتہ دارانہ اختلاط کے نتیجے میں غلاموں کے تمدن و معاشرت میں جلد تر اصلاح پیدا ہو سکے اور اسی غرض وغایت کے ماتحت لونڈیوں کا معاملہ تعداد ازدواج کی انتہائی حد بندی سے مستی رکھا گیا ہے تا کہ غلاموں اور لونڈیوں کے تمدن و معاشرت میں اصلاح کے موقعے زیادہ سے زیادہ تعداد میں کھلے رہیں اور وہ جلد تر آزاد کئے جانے کے قابل ہو جائیں۔اس کے متعلق بعض قرآنی آیات اوپر والے مضمون میں درج کی جاچکی ہیں اس جگہ ان کے اعادہ کی ضرورت نہیں۔یہ سوال کہ آیا لونڈیوں کے ساتھ باقاعدہ رسمی نکاح کی ضرورت ہے یا نہیں۔اس کی مختلف صورتیں ہیں۔اول جبکہ کسی لونڈی اور غلام کے آپس کے رشتہ کا سوال ہو۔دوم جبکہ کسی لونڈی اور ایسے آزاد مرد کے رشتہ کا سوال ہو جو اس کا مالک و آقا نہیں ہے۔سوم جبکہ کسی غلام اور آزاد عورت کے رشتہ کا سوال ہو۔چہارم جبکہ کسی لونڈی اور اس کے اپنے آقا و مالک کے رشتہ کا سوال ہو۔ان چاروں امکانی صورتوں میں سے پہلی تین صورتوں میں مسلمہ طور پر رسمی نکاح ضروری سمجھا گیا ہے اور اس کے بغیر رشتہ قائم نہیں ہوسکتا لیکن چوتھی صورت میں اکثر علماء آقا اور لونڈی کے رشتے کے معاملہ میں رسمی نکاح کی ضرورت نہیں سمجھتے اور ان کی دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ چونکہ آقا کولونڈی پر حق ملکیت حاصل ہوتا ہے اس لئے قانونی رنگ میں یہی حق نکاح کا قائم مقام سمجھا جانا چاہئے اور کسی الگ رسمی نکاح کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ اخلاقی اور تمدنی اور نسلی حفاظت جو رسمی نکاح میں ملحوظ ہے وہ اس رشتہ میں بھی جو حق ملکیت کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے اسی طرح حاصل ہوتی ہے۔واللہ اعلم۔قیدی عورتوں کا سوال اس جگہ یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ اسلام نے ان عورتوں کے متعلق بھی جو کفار کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف جنگ میں حصہ لیں اور بطور قیدی کے پکڑی جائیں اس قسم کا ایک استثنائی انتظام جاری کیا ہے جس کے ماتحت ان قیدی عورتوں کے ساتھ جن کے مرد انہیں فدیہ دے کر چھڑانے کے لئے جلد نہ پہنچ جائیں یا جو قید ہونے پر خود مکاتبت کے طریق بخاری کتاب النکاح : سورة النساء : ۴