سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 448
۴۴۸ غلام دونوں کے دلوں میں یہ احساس رہے کہ ہم ایک دوسرے کے دوست ہیں اور بوقت ضرورت ہم نے ایک دوسرے کے کام آنا ہے اسی مصلحت کے ماتحت آزادشدہ غلام اور مالک کو ایک دوسرے کے متعلق حق موروثیت بھی عطا کیا گیا تھا۔یعنی اگر غلام بے وارث مرتا تھا تو اس کا ترکہ اس کے سابقہ آقا کو جاتا تھا اور اگر مالک بے وارث رہ جاتا تھا تو اس کا ورثہ اس کے آزاد کردہ غلام کو ملتا تھا۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے: عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْوِلَاءَ لِمَنِ اعْتَقَ ۚ وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَجُلاً مَاتَ عَلَى عَهْدِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يَدَعَ وَارِثًا إِلَّا عَبْدًا هُوَ اعْتَقَهُ فَأَعْطَاهُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِيرَاثَهُ یعنی عائشہ روایت کرتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ اگر کوئی آزاد شدہ غلام لا وارث مر جاوے تو اس کا ترکہ اس کے سابق مالک کو ملے گا اور ابن عباس سے مروی ہے کہ ایک دفعہ ایک شخص ایسی حالت میں مرگیا کہ اس کا کوئی وارث نہیں تھا۔البتہ اس کا ایک آزادشدہ غلام تھا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ترکہ اس کے آزادشدہ غلام کو عطا فر ما دیا۔“ چونکہ اس حق موروثیت کی بنیاد مالی اور اقتصادی خیالات پر مبنی نہیں تھی بلکہ اصل منشا مالک اور آزادشدہ غلام کے تعلق کو قائم رکھنا تھا اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم جاری فرمایا کہ یہ حق موروثیت کسی صورت میں بھی بیچ یا ہبہ وغیرہ نہیں ہو سکتا۔چنانچہ ابن عمر سے روایت آتی ہے کہ: نَهى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعِ الْوِلَاءِ وَهِبَتِهِ - = یعنی " آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آزاد شدہ غلام اور آقا کے حق موروث کی خرید وفروخت اور اس کے ہبہ وغیرہ سے منع فرمایا ہے: پھر آزاد شدہ غلاموں کی عزت واحترام کے قیام کے لئے حدیث میں آتا ہے: عَنْ عَائِدِ بْنِ عَمْرٍ واَنَّ اَبَا سُفْيَانَ أَتَى عَلَى سَلْمَانَ وَصُهَيْبٍ وَبَلَالٍ فِي نَفَرٍ فَقَالُوا وَاللهِ مَا أَخَذَتْ سُيُوقَ اللهِ مِنْ عُنُقِ عَدُوّ اللَّهِ مَأَخَذَهَا قَالَ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ اَتَقُولُونَ هَذَا : بخاری کتاب العتق بخاری کتاب العتق ترمذی ابواب الفرائض و ابودا و دوابن ماجہ بحوالہ مشکوة