سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 421 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 421

۴۲۱ یاوری نہ کی۔ہاں! اگر تو نے رونا ہے تو رو میرے عقیل پر اور رومیرے حارث پر جو شیروں کا شیر تھا۔“ غرض اس طرح ماتم کے رکے رہنے کا اعلان دھرے کا دھرا رہ گیا اور ایک ایک کر کے سارے قریش ماتم کی رو میں بہ گئے۔صرف ایک گھر تھا جو خاموش تھا اور وہ ابوسفیان کا گھر تھا۔ابوسفیان کی بیوی ہند قریش کے رئیس اعظم عتبہ بن ربیعہ کی لڑکی تھی اور یہ بیان کیا جا چکا ہے کہ بدر کے میدان میں عتبہ اور اس کا لڑکا ولید اور اس کا بھائی شیبہ سب خاک میں مل چکے تھے ، مگر مردانہ صفت ہند نے ایک لفظ بھی نوحہ کا اپنے منہ سے نکلنے نہیں دیا۔لوگ آ آ کر اس سے پوچھتے تھے کہ اے ہند! تو کیوں خاموش ہے۔ہند جواب دیتی تھی کہ "اگر آنسو میرے غم کی آگ کو بجھا سکتے تو میں بھی روتی لیکن میں جانتی ہوں کہ آنسو میری آگ کو نہیں بجھا سکتے۔اب یہ آگ اس وقت بجھے گی کہ تم لوگ پھر محمد کے خلاف میدان میں نکلو اور بدر کا بدلہ لو۔" جنگ بدر کا اثر کفار اور مسلمانوں ہر دو کے لئے نہایت گہرا اور دیر پا ہوا اور اسی لئے تاریخ اسلام میں اس جنگ کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے حتی کہ قرآن شریف میں اس جنگ کا نام یوم الفرقان رکھا گیا ہے۔یعنی وہ دن جبکہ اسلام اور کفر میں ایک کھلا کھلا فیصلہ ہو گیا۔بے شک جنگ بدر کے بعد بھی قریش اور مسلمانوں کی باہم لڑائیاں ہوئیں اور خوب سخت سخت لڑائیاں ہوئیں اور مسلمانوں پر بعض نازک نازک موقعے بھی آئے لیکن جنگ بدر میں کفار مکہ کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ چکی تھی جسے بعد کا کوئی جراحی عمل مستقل طور پر درست نہیں کر سکا۔تعدا د مقتولین کے لحاظ سے بے شک یہ کوئی بڑی شکست نہیں تھی۔قریش جیسی قوم میں ستر بہتر سپاہیوں کا مارا جانا ہر گز قومی تباہی نہیں کہلا سکتا۔جنگ احد میں یہی تعداد مسلمان مقتولین کی تھی لیکن یہ نقصان مسلمانوں کے فاتحانہ رستہ میں ایک عارضی روک بھی ثابت نہیں ہوا۔پھر وہ کیا بات تھی کہ جنگ بدر یوم الفرقان کہلائی؟ اس سوال کے جواب میں بہترین الفاظ وہ ہیں جو قرآن شریف نے بیان فرمائے اور وہ یہ ہیں يَقْطَعَ دَابِرَ الْكَافِرِينَ۔واقعی اس دن کفار کی جڑ کٹ گئی۔یعنی جنگ بدر کی ضرب کفار کی جڑ پر لگی اور وہ دوٹکڑے ہوگئی۔اگر یہی ضرب بجائے جڑ کے شاخوں پر لگتی تو خواہ اس سے کتنا زیادہ نقصان کرتی وہ نقصان اس نقصان کے مقابلہ میں بیچ ہوتا لیکن جڑ کی ضرب نے ہرے بھرے درخت کو دیکھتے دیکھتے ایندھن کا ڈھیر کر دیا اور صرف وہی شاخیں بچیں جو خشک ہونے سے پہلے دوسرے درخت سے پیوند ہوگئیں۔پس بدر کے میدان میں قریش کے نقصان کا پیمانہ یہ نہیں تھا کہ کتنے آدمی مرے بلکہ یہ تھا کہ کون کون مرے اور جب ہم اس نقطہ نگاہ سے قریش کے مقتولین پر نظر ڈالتے ہیں تو اس بات میں ذرا : مغازی الرسول واقدی ابن ہشام