سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 422
۴۲۲ بھی شک وشبہ کی گنجائش نہیں رہتی کہ بدر میں فی الواقع قریش کی جڑ کٹ گئی۔عتبہ اور شیبہ اور امیہ بن خلف اور ابو جہل اور عقبہ بن ابی معیط اور نضر بن حارث وغیرہ قریش کی قومی زندگی کی روح رواں تھے اور یہ روح بدر کی وادی میں قریش سے ہمیشہ کے لئے پرواز کر گئی اور وہ ایک قالب بے جان کی طرح رہ گئے۔یہ وہ تباہی تھی جس کی وجہ سے جنگ بدر یوم فرقان کے نام سے موسوم ہوئی اور خود قریش بھی اس نقصان کے اندازہ کو خوب سمجھتے تھے۔چنانچہ قریش کا ایک معزز شاعر بدر کے مقتولین کا نوحہ کرتا ہوا کہتا ہے اور کیا خوب کہتا ہے۔الا قَدْ سَادَ بَعْدَهُمُ أُنَاسٌ وَلَوْلَا يَوْمُ بَدْرٍ لَمْ يَسُودُوا ان رؤساء قریش کے بعد کہ جو بدر کے دن مارے گئے ایسے لوگ قومی ریاست کے مسند پر بیٹھے ہیں کہ اگر بدر کا دن نہ ہوتا تو یہ لوگ ہرگز رئیس نہ بن سکتے۔اللہ اللہ کیا تباہی تھی جو اس قوم پر آئی ! بدر کی شکست کیا تھی کہ گویا قوم رانڈ ہوگئی۔بے شک رؤساء زادے اب بھی قریش میں کافی موجود تھے اور وہ لوگ بھی تھے جو ریاست کی صف دوم میں شمار کئے جاسکتے تھے مگر وہ چوٹی کے سردار جو اسلام کے خلاف معاندانہ کاروائیوں کی روح رواں تھے اور جن کے پیچھے ان کی قوم با وجود عرب کی فطری آزادی کے اس معاملہ میں گویا بھیڑوں کی طرح چلتی تھی ، سب کے سب خاک میں مل گئے تھے اور معلوم ہوتا ہے کہ اس بارہ میں کوئی خاص تقدیر کام کر رہی تھی کیونکہ ابو لہب جو بدر کی جنگ میں شامل نہیں ہوا تھا مگر جو مخالفین اسلام کی صف اول میں تھا وہ بھی ہلاکت سے نہیں بچا کیونکہ بدر کے چند دن بعد ہی وہ مکہ میں ایک مکروہ بیماری میں مبتلا ہوا اور نہایت ذلت کی موت مر کر اپنے ان ساتھیوں سے جاملا جو بدر میں مارے گئے تھے۔اب لے دے کے صرف ایک ابوسفیان رہ گیا تھا جسے شاید اس کی قسمت نے فتح مکہ کے موقع پر مسلمان ہونے کے لئے بچا لیا تھا اور بدر کے بعد اسی کے سر پر قریش کی سرداری کا تاج رکھا گیا تھا۔بدر کے نتائج پر بحث کرتے ہوئے سرولیم میور لکھتے ہیں: وو بدر کے حالات میں ایسی باتوں کا بہت کچھ عنصر نظر آتا ہے جس کی وجہ سے محمد صاحب اس فتح کو جائز طور پر خدائی تقدیر کا کرشمہ شمار کر سکتے تھے۔نہ صرف یہ کہ یہ فتح بہت نمایاں اور فیصلہ کن تھی بلکہ اس جنگ میں غیر معمولی طور پر محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اکثر با اثر دشمن خاک میں مل گئے تھے۔ان رؤساء مکہ کے علاوہ جو جنگ میں قتل کئے گئے یا قید کر لئے گئے تھے ابن ہشام : ابن ہشام و طبری