سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 420 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 420

۴۲۰ کے بعد موقع پا کر مدینہ بھاگ آیا۔مکہ میں جب لشکر قریش کی شکست اور رؤساء قریش کی ہلاکت کی خبر پہنچی تو ایک کہرام مچ گیا اس حالت کو دیکھ کر ابوسفیان اور بعض دوسرے ذی اثر قریش نے اعلان کروایا کہ کوئی شخص اس وقت تک مقتولین بدر پر نوحہ نہ کرے جب تک کہ ہم لوگ مسلمانوں سے بدر کا بدلہ نہ لے لیں اور اس طرح عامتہ الناس کے جوش نوحہ کو انتقام کی تیاری میں لگا دیا گیا مگر بدر کا صدمہ ایسا نہ تھا کہ عرب کی فطرت اسے آسانی سے دبا سکتی۔چند دن کے صبر و خاموشی کے بعد پھر گھر گھر سے صدائے ماتم بلند ہونی شروع ہوئی اور بدر کے مقتول مکہ کی گلی کوچوں میں بر ملا طور پر پیٹے جانے لگے۔عرب کی سی آتشی فطرت اور پھر بدر کی سی تباہی اس کے نتیجہ میں جو ماتم بھی ہوسکتا تھا وہ ہوا اور برابر ایک ماہ تک یہ سلسلہ جاری رہا۔شروع شروع میں جبکہ قریش اظہار ماتم سے رکے ہوئے تھے اور پھر جوش ماتم کو دبا نہ سکنے کی وجہ سے پھوٹ پڑے اس وقت کی ایک مثال روایات میں خاص طور پر مذکور ہوئی ہے اور ناظرین کی بصیرت کے لئے ہم اسے یہاں درج کرتے ہیں۔اسود بن عبد یغوث مکہ کا ایک رئیس تھا۔اس کے دولڑ کے اور ایک پوتا جنگ بدر میں مارے گئے تھے مگر رؤساء قریش کے فیصلہ کی وجہ سے وہ خاموش تھا اور فرط غم سے اندر ہی اندر گھلا جاتا تھا۔ایک رات اس نے اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے باہر گلی میں سے رونے چلانے کی آواز سنی۔اس آواز نے اسے بے چین کر دیا اور اس نے اپنے نوکر کو بلا کر کہا دیکھ تو یہ آواز کیسی ہے۔شاید رؤساء قریش نے ماتم کرنے کی اجازت دے دی ہے۔اگر یہ درست ہے تو میرے سینے میں ایک آگ لگ رہی ہے میں بھی جی کھول کر رولوں کہ دل کا کچھ بخار تو نکل جاوے۔نوکر گیا اور خبر لایا کہ ایک عورت کا اونٹ کھویا گیا ہے اور وہ اس پر نوحہ کر رہی ہے۔شاعری عرب کی فطرت میں تھی اسود کے منہ سے بے اختیار یہ شعر نکلے اور دبے ہوئے جذبات پھوٹ کر باہر آ گئے۔اَتَبُكِى أَنْ يُضِلَّ لَهَا بَعِيرُ وَيَمْنَعُهَا مِنَ النَّوْمِ السُّهُودُ فَلَا تَبْكِي عَلَى بَكْرٍ وَلَكِن عَلَى بَدْرٍ تَقَاصَرَتِ الْجُدُودُ وَبَعِي إِنْ بَكَيْتِ عَلَى عَقِيلٍ وَبَكَّي حَارِثًا أَسَدِ الْأُسُودِ یعنی ” کیا وہ عورت اس بات پر رورہی ہے کہ اس کا ایک اونٹ کھو گیا ہے اور اس نقصان کا غم اسے رات کو سونے نہیں دیتا۔اے عورت! تو اس اونٹ پر کیا روتی ہے۔روبدر پر جہاں کہ ہماری قسمت نے لے اسد الغابه واصابه حالات ولید بن ولید