سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 353 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 353

۳۵۳ نکلنے لگے تو ایک بوڑھے انصاری نے ایک غریب صحابی واثلہ بن اسقع کو اپنی طرف سے سواری وغیرہ کا انتظام کر دیا۔جہاد کے بعد واثلہ بن اسقع ، کعب بن عجرة کے پاس آئے اور کہا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے یہ یہ اونٹنیاں غنیمت میں دی ہیں تم اپنا حصہ لے لو۔کعب نے کہا۔کبھتیجے ! خدا تمہیں یہ مال مبارک کرے۔میری نیت غنیمت کی نہ تھی بلکہ ثواب کی تھی اور حصہ لینے سے انکار کر دیا۔پھر نسائی میں ایک روایت آتی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک اعرابی ایمان لایا اور ایک غزوہ میں ساتھ ہولیا۔جب کچھ مال غنیمت ملا تو آپ نے اس کا حصہ بھی نکالا۔اسے معلوم ہوا تو وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! آپ نے میرا حصہ نکالا ہے۔خدا کی قسم میں تو اس خیال سے مسلمان نہیں ہوا تھا۔میری تو یہ نیت تھی کہ مجھے خدا کی راہ میں ( حلق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے )اس جگہ تیر لگے اور میں جنت میں جاؤں۔آپ نے فرمایا۔اگر یہ شخص سچی خواہش کا اظہار کرتا ہے تو خدا اسے پورا کرے گا۔تھوڑی دیر بعد لڑائی ہوئی تو وہ شخص وہیں حلق میں تیر کھا کر شہید ہوا۔جب صحابہؓ ا سے آپ کے سامنے اٹھا کر لائے تو آپ نے پوچھا کیا یہ وہی ہے۔صحابہ نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ۔آپ نے فرمایا! ”خدا نے اس کی آرزو کو پورا کر دیا۔پھر آپ نے اس کے کفن کے لئے اپنا جبہ عطا کیا اور اس کے لئے خاص طور پر دعا فرمائی۔افسوس صد افسوس! ان شہادتوں کے ہوتے ہوئے بعض لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ پر یہ الزام لگاتے ہوئے خدا کا خوف نہیں کرتے کہ ان لڑائیوں میں ان کی غرض لوٹ مار اور دنیا کمانا تھی۔عرب میں جنگ کا طریق کفار اور مسلمانوں کی لڑائیوں کو اچھی طرح سمجھنے کے لئے یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ عرب میں جنگوں کا طریق دورنگ رکھتا تھا جسے انگریزی میں فیوڈ (FEUD) کہتے ہیں یعنی جب کسی وجہ سے عرب کے دو قبائل میں جنگ چھڑتی تھی تو پھر جب تک ان میں با قاعدہ صلح نہ ہو جاتی تھی وہ ہمیشہ جنگ کی حالت میں سمجھے جاتے تھے اور موقع پا کر وقفہ وقفہ لے : ابوداؤد میں اس کا نام مذکور نہیں مگر اسد الغابہ سے پتا لگتا ہے کہ اس کا نام کعب بن عجرہ تھا۔: كتاب الجهاد : كتاب الجنائز اوپر والی جملہ روایتوں میں جن میں ابواب وغیرہ کا حوالہ نہیں دیا گیا وہ عموماً ابواب الجہاد والسیر والمغازی سے لی گئی ہیں اور ان کے الفاظ تلخیص الصواح کی روایت کے مطابق درج کئے گئے ہیں۔