سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 354 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 354

۳۵۴ سے آپس میں لڑتے رہتے تھے۔حتیٰ کہ بعض اوقات یہ جنگیں بڑے بڑے لمبے عرصہ تک جاری رہتی تھیں۔چنانچہ جنگ بسوس جس کا ذکر کتاب کے حصہ اول میں گزر چکا ہے اسی طرح وقفہ وقفہ سے چالیس سال تک جاری رہی تھی اور تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ بعض جنگیں سو سو سال تک بھی جاری رہیں مگر مسلسل لڑتے رہنے کا عرب میں دستور نہیں تھا جس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ اول تو چونکہ قبیلہ کاہر شخص سپاہی ہوتا تھا اور کوئی باقاعدہ الگ فوج نہیں ہوتی تھی اس لئے قبائل عرب اپنی جنگوں کو مسلسل طور پر جاری نہیں رکھ سکتے تھے اور اپنے دوسرے کا روبار کی وجہ سے اس بات پر مجبور تھے کہ وقفہ دے کر لڑائی کریں۔دوسرے چونکہ جنگ میں ہر شخص اپنا اپنا خرج خود برداشت کرتا تھا اور اس غرض کے لئے عموماً کوئی قو می خزا نہ نہیں ہوتا تھا اس لئے یہ انفرادی مالی بوجھ بھی عربوں کو مجبور کرتا تھا کہ دم لے لے کر میدان میں آئیں۔اس غیر مسلسل جنگ کو جاری رکھنے کے لئے بعض اوقات یہ طریق بھی اختیار کیا جاتا تھا کہ جب ایک لڑائی ہوتی تھی تو اسی میں آئندہ کے لئے وعدہ ہو جاتا تھا کہ اب فلاں وقت فلاں جگہ پھر ملیں گے اور اس طرح یہ سلسلہ چلتا چلا جاتا تھا۔چنانچہ احد کے موقع پر ابوسفیان نے اسی قسم کا وعدہ مسلمانوں سے کیا تھا جس کے نتیجہ میں غزوہ بدر الموعدہ وقوع میں آیا۔الغرض عربوں میں مسلسل لڑتے رہنے کا طریق نہیں تھا بلکہ وہ وقفہ ڈال ڈال کر لڑتے تھے اور درمیانی وقفوں کولڑائی کی تیاری اور اپنے دوسرے کاروبار میں صرف کرتے تھے اور ان کی یہ ساری لڑائیاں ایک ہی زنجیر کی مختلف کڑیاں ہوتی تھیں۔یہ ایک بڑا عجیب نکتہ ہے جسے نظر انداز کر دینے کی وجہ سے بعض مؤرخین نے ٹھو کر کھائی ہے۔کیونکہ انہوں نے قریش اور مسلمانوں کی باہمی لڑائیوں میں سے ہر لڑائی کے لئے الگ الگ وجوہات تلاش کرنی چاہی ہیں۔حالانکہ حق یہ ہے کہ جب قریش اور مسلمانوں کے درمیان ایک دفعہ جنگ شروع ہو گیا تو پھر اس وقت تک کہ ایک با قاعدہ معاہدہ کے ذریعہ سے ان کے درمیان صلح نہیں ہوگئی۔یعنی صلح حدیبیہ تک جو ہجرت کے چھٹے سال ہوئی یہ دونوں قو میں حالت جنگ میں تھیں اور اس عرصہ میں ان کے درمیان جتنی بھی لڑائیاں ہوئیں وہ اسی جنگ کے مختلف کارنامے تھے اور ان کے لئے الگ الگ وجوہات تلاش کرنا سخت غلطی ہے۔ہاں بعض اوقات بے شک ایسا ہوا ہے کہ کسی درمیانی لڑائی کے لئے کوئی الگ تحریکی باعث بھی پیدا ہو گیا ہے ،لیکن اصل سبب وہی مستقل پہلا جھگڑا رہا ہے۔اس کے ساتھ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بعض اوقات عرب کے جنگوں میں یہ بھی ہوتا تھا اور دراصل یہ بات تو آج کل کے جنگوں میں بھی پائی جاتی ہے ) کہ جنگ کرنے والے قبائل کے ساتھ