سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 328 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 328

۳۲۸ اور تم نجات پا جاتے مگر اب نہیں۔اس کے بعد آپ نے اس کے بدلے میں دو مسلمان قیدی بنو ثقیف سے چھڑ والئے اور اسے کفار کو واپس کر دیا۔الغرض تاریخ میں کوئی ایک مثال بھی ایسی نہیں ملتی کہ صحابہ نے کسی شخص کو تلوار سے ڈرا کر مسلمان بنایا ہو بلکہ جو مثال ملتی ہے اس کے خلاف ملتی ہے اور یہ اس بات کا ایک عملی ثبوت ہے کہ مسلمانوں کی یہ لڑائیاں لوگوں کو جبر مسلمان بنانے کی غرض سے نہ تھیں۔اس جگہ اگر کسی کو یہ شبہ پیدا ہو کہ لڑائی میں کسی کافر کی طرف سے اسلام کے اظہار پر اسے چھوڑ دینا یہ بھی تو ایک رنگ کا جبر ہے تو یہ ایک جہالت کا اعتراض ہوگا۔وجہ مخاصمت کے دور ہو جانے پر لڑائی سے ہاتھ کھینچ لینا حسن اخلاق اور احسان ہے نہ کہ جبر وظلم۔کفار عرب کے خلاف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جنگ کرنا صرف اس بناء پر تھا کہ انہوں نے آپ کے خلاف تلوار اٹھائی تھی اور اسلام کی پُر امن تبلیغ کو بزور روکنا چاہتے تھے اور اس کے مقابلہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ملک میں امن اور مذہبی آزادی قائم کرنا چاہتے تھے۔اب اگر کوئی شخص مسلمان ہو جاتا ہے تو قطع نظر اس کے کہ اسے گھر میں بیٹھے ہوئے اسلام پر شرح صدر پیدا ہوتا ہے یا میدان جنگ میں۔جب بھی وہ اسلام کا اظہار کرے گا تو اس کے اس اظہار کے کم از کم یہ معن ضرور ہوں گے کہ اب اس کی طرف سے وہ خطرہ دور ہو گیا ہے جن کی بناء پر یہ جنگ ہورہی تھی تو اس صورت میں لازماً اس کے خلاف کارروائی بند کر دی جاوے گی۔درحقیقت جیسا کہ ابھی ظاہر ہو جائے گا جنگ کی ابتداء تو کفار کی طرف سے تھی۔پس جب کوئی شخص مسلمان ہوتا تھا تو طبعا اس کے یہ معنے ہوتے تھے کہ اب وہ جنگ کو ترک کر کے صلح کی طرف مائل ہوتا ہے۔پس اس کے خلاف لڑائی روک دی جاتی تھی۔یہی مفہوم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس حدیث کا ہے جس میں آپ نے فرمایا کہ اُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَقُولُوا لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ " یعنی " مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ان کفار سے جنگ کروں جو اسلام کے خلاف میدان جنگ میں نکلے ہیں سوائے اس کے کہ وہ مسلمان ہو جائیں۔“ مگر غلطی سے بعض لوگوں نے اس حدیث کے یہ معنے سمجھ لئے ہیں کہ گویا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دنیا کے تمام کافروں کے خلاف اس وقت تک لڑنے کا حکم دیا گیا تھا کہ وہ مسلمان ہو جائیں۔حالانکہ یہ معنے قرآنی تعلیم اور تاریخی واقعات کے صریح خلاف ہیں اور یہ ایک سراسر خلاف دیانت فعل ہوگا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی قول کے وہ معنے چھوڑ کر جو قرآن و تاریخ کے مطابق ہیں اور لغت عرب کی رو سے بھی ان پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہوسکتا وہ معنے کئے جاویں جو واضح قرآنی تعلیم اور صریح تاریخی واقعات کے بالکل خلاف 1 : مسلم بحوالہ مشکوۃ باب حكم الاسراً : مسلم کتاب الایمان