سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 329
۳۲۹ ہیں۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کا یہی مطلب ہے کہ جن کفار نے مسلمانوں کے خلاف تلوار اٹھائی ہے اور ملک میں نقض امن کا موجب ہو رہے ہیں مجھے ان کے خلاف لڑنے کا حکم دیا گیا ہے، لیکن اگر وہ مسلمان ہو جائیں اور ان کی طرف سے یہ خطرہ جاتا رہے تو مجھے لڑائی بند کر دینے کا حکم ہے۔گویا مراد یہ ہے کہ مجھے ان کفار کے خلاف اس وقت تک لڑنے کا حکم ہے کہ یا تو جنگ کا طبعی نتیجہ ظاہر ہو جاوے یعنی یہ لوگ جو اسلام کے خلاف اٹھے ہوئے ہیں مفتوح ہو جائیں اور جنگ کا خاتمہ ہو جاوے اور یا وہ اسلام کی صداقت کے قائل ہو کر مسلمان ہو جائیں اور ان کی طرف سے امن شکنی کا کوئی اندیشہ نہ رہے۔اس کا مزید ثبوت یہ ہے کہ صرف اسلام کے اظہار پر ہی لڑائی بند نہیں ہوتی تھی بلکہ اگر کوئی قبیلہ مسلمانوں کے خلاف جنگ ترک کر دیتا تھا اور مسلمانوں کی سیاسی حکومت کو قبول کر لیتا تھا تو خواہ وہ کفر وشرک پر ہی قائم رہتا تھا اس کے خلاف بھی جنگ کی کارروائی روک دی جاتی تھی۔چنانچہ اس کی بہت سی مثالیں تاریخ میں مذکور ہیں جو اپنے موقع پر بیان ہوں گی۔الغرض اسلام کے اظہار پر لڑائی بند کر دینے کے حکم کا قطعاً کوئی تعلق جبر سے نہیں ہے بلکہ یہ ایک حسن سیاست کا فعل ہے جو ہر عقل مند کے نزدیک قابل تعریف سمجھا جانا چاہئے۔یہ تشریح جو اس حدیث کی کی گئی ہے یہ محض عقلی تشریح نہیں بلکہ خود قرآن کریم کمال صراحت کے ساتھ اس تعلیم کو پیش کرتا ہے کہ اگر کفار اپنے مظالم سے باز آجائیں اور ملک میں فساد اور امن شکنی کا موجب نہ بنیں تو اس صورت میں مسلمانوں کو ان کے خلاف فوراً کارروائی روک دینی چاہئے۔چنانچہ قرآن شریف فرماتا ہے: وقتِلُوهُمْ حَتَّى لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ ۖ فَإِنِ انْتَهَوْا فَلَا عُدْوَانَ إِلَّا عَلَى الظَّلِمِينَ یعنی اے مسلمانو! تم جنگ کروان کفار سے جو تم سے جنگ کرتے ہیں اس وقت تک کہ ملک میں فتنہ نہ رہے اور ہر شخص اپنے خدا کے لئے (نہ کسی ڈر اور تشدد کی وجہ سے ) جو دین بھی چاہے رکھ سکے اور اگر یہ کفار اپنے ظلموں سے باز آجا ئیں تو تم بھی رک جاؤ کیونکہ تمہیں ظالموں کے سوا کسی کے خلاف جنگی کارروائی کرنے کا حق نہیں ہے۔“ اس آیت کی تفسیر حدیث میں اس طرح آتی ہے کہ عَنِ ابْنِ عُمَرَاَنَّ اللَّهَ يَقُولُ وَقَاتِلُوهُمُ حَتَّى لا تَكُونُ فِتْنَةٌ ، قَالَ ابْنُ عُمَرَقَدْ فَعَلْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ا : سورة بقره : ۱۹۴