سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 295 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 295

۲۹۵ بیشتر اوقات شراب اور زنا اور جوئے اور آپس کی لڑائی میں گزرتے تھے ایک تاریک ترین قعر مذلت سے اٹھایا اور ایک روشن ترین اوج سعادت پر پہنچا دیا اور اسلام پر کسی کا احسان نہیں ہے بلکہ ہر اک مسلمان کی گردن اسلام کے احسان کے نیچے ہے، لیکن یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ان ابتدائی فدایان اسلام نے جس جاں نثارانہ قربانی اور جس والہانہ عشق و محبت سے اسلام کے نازک اور کم سن پودے کو اپنے خون کے پانی سے سینچا اس کی نظیر تاریخ عالم میں نہیں ملتی۔مگر مجھے اپنے مضمون کی طرف لوٹنا چاہئے۔انصار کی نظریں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر پڑیں تو ان کے چہرے خوشی سے تمتما اٹھے اور انہوں نے ایسا محسوس کیا کہ گویا دنیا و آخرت کے سارے انعامات انہیں آپ کے وجود میں حاصل ہو گئے ہیں۔چنانچہ بخاری میں براء بن عازب کی روایت ہے کہ جو خوشی انصار کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ تشریف لانے کے وقت پہنچی ویسی خوشی کی حالت میں میں نے انہیں کبھی کسی اور موقع پر نہیں دیکھا۔ترمذی اور ابن ماجہ نے انس بن مالک سے روایت کی ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ہم نے یوں محسوس کیا کہ ہمارے لئے مدینہ روشن ہو گیا اور جب آپ فوت ہوئے تو اس دن سے زیادہ تاریک ہمیں مدینہ کا شہر کبھی نظر نہیں آیا۔استقبال کرنے والوں کی ملاقات کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کسی خیال کے ماتحت جس کا ذکر تاریخ میں نہیں آیا سید ھے شہر کے اندر داخل نہیں ہوئے بلکہ دائیں طرف ہٹ کر مدینہ کی بالائی آبادی میں جو اصل شہر سے دو اڑھائی میل کے فاصلہ پر تھی اور جس کا نام قبا تھا تشریف لے گئے۔اس جگہ انصار کے بعض خاندان آباد تھے جن میں زیادہ ممتاز عمر و بن عوف کا خاندان تھا اور اس زمانہ میں اس خاندان کے رئیس کلثوم بن الہدم تھے۔قبا کے انصار نے آپ کا نہایت پر تپاک استقبال کیا اور آپ کلثوم بن الہدم کے مکان پر فروکش ہو گئے۔وہ مہاجرین جو آپ سے پہلے مدینہ پہنچ گئے ہوئے تھے وہ بھی اس وقت تک زیادہ تر قبا میں کلثوم بن الہدم اور دوسرے معززین انصار کے پاس مقیم تھے اور شاید یہی وجہ تھی کہ آپ نے سب سے پہلے قبا میں قیام کرنا پسند فرمایا۔ایک آن کی آن میں سارے مدینہ میں آپ کی آمد کی خبر پھیل گئی اور تمام مسلمان جوش مسرت میں بیتاب ہو کر جوق در جوق آپ کی فرودگاہ پر جمع ہونے شروع ہو گئے۔اس وقت ایک عجیب لطیفہ ہوا جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کی سادگی کا پتہ چلتا ہے اور وہ یہ کہ جن اہالیان مدینہ نے آپ کو اس سے پہلے نہیں دیکھا ہوا تھا ان میں سے بعض اپنے خیال میں ل : زرقانی جلد اصفحه ۳۵۹