سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 296
۲۹۶ حضرت ابوبکر کو ہی رسول اللہ سمجھتے رہے مگر جب مجلس میں دھوپ آگئی اور حضرت ابو بکر نے اپنی چادر سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر سایہ کیا اس وقت ان کی یہ غلط فہمی دور ہوئی۔اس غلط فہمی کی وجہ یہ تھی کہ باوجو د عمر میں چھوٹا ہونے کے حضرت ابو بکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت زیادہ بوڑھے نظر آتے تھے اور بمقابلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ان کے بہت سے بال سفید ہو چکے تھے اور چونکہ مجلس میں نشست کی کوئی خاص ترتیب بھی نہیں تھی اور نہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کوئی ممتاز جگہ معین تھی اس لئے نا واقف لوگوں کو دھوکا لگ گیا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نزول قبایعنی تکمیل سفر ہجرت کی تاریخ کے متعلق روایات میں کسی قدر اختلاف ہے۔عام مؤرخین کا خیال ہے کہ وہ پیر کا دن اور ربیع الاول ۱۴ نبوی کی بارہ تاریخ تھی مگر بعض محققین نے آٹھ تاریخ لکھی ہے۔عیسوی سن کے شمار سے یہ تاریخ بعض حساب دانوں کے خیال کے مطابق ۲۰ ستمبر ۶۲۲ تھی۔اسلامی سن کا شمار اسی واقعہ ہجرت سے شروع ہوتا ہے مگر سال کی ابتدار بیع الاول سے نہیں ہوتی جو کہ ہجرت کا مہینہ ہے بلکہ محرم سے ہوتی ہے جو کہ قمری مہینوں کا پہلا ماہ سمجھا جاتا ہے اور اس طرح پہلا سال ہجرت کا دراصل بارہ ماہ کا نہیں تھا بلکہ نو ماہ اور کچھ دن کا تھا۔اس بارہ میں مؤرخین میں اختلاف ہے کہ اسلام میں ہجرت کے سن کا حساب ابتداء کس کے عہد میں شروع ہوا۔حاکم نے اکلیل میں روایت کی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہجرت کے بعد اس کا حکم دیا تھا۔لیکن دوسری روایات کی بنا پر جمہور مورخین کا یہ خیال ہے اور یہی درست معلوم ہوتا ہے کہ یہ حساب حضرت عمرؓ کے عہد خلافت میں شروع ہوا تھا۔واللہ اعلم مؤرخین لکھتے ہیں کہ پہلا کام جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قباء میں کیا وہ ایک مسجد کی تعمیر تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے اس مسجد کی بنیا د رکھی اور صحابہ نے مل کر مزدوروں اور معماروں کا کام کیا۔اور چند دن کی محنت سے یہ مسجد تیار ہوگئی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس مسجد سے آخر وقت تک بہت محبت رہی۔چنانچہ مدینہ میں چلے جانے کے بعد آپ ہر ہفتہ قبا تشریف لے جاتے اور اس مسجد میں نماز ادا فرمایا کرتے تھے۔بعض علماء کا خیال ہے کہ قرآن شریف میں جس مسجد کے متعلق أُسِسَ عَلَى التَّقْوَى مِنْ أَوَّلِ يَوْمِ کے الفاظ بیان ہوئے ہیں وہ یہی مسجد قبا ہے اور اس میں 2 : بخاری باب الحجرت : زرقانی توفیقات الہامیه محمد مختار پاشا مصری : طبری ۵: توبه : ۱۰۸