سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 294 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 294

۲۹۴ تھے۔اس لڑائی میں اس قدر خونریزی ہوئی اور فریقین کے اتنے آدمی مارے گئے کہ اوس اور خزرج نا چار آپس میں صلح کرنے پر مجبور ہو گئے۔چنانچہ دونوں قبیلوں نے آپس میں مشورہ کر کے اس بات پر اتفاق کرلیا کہ چند شرائط کے ماتحت عبداللہ بن ابی بن سلول کو جو قبیلہ خزرج کا ایک نامور اور ہوشیار رئیس تھا اپنا متحدہ سردار تسلیم کر لیا جاوے اور عبداللہ کی باقاعدہ تاجپوشی کی تیاری ہونے لگی مگر عبداللہ کا سر ہنوز قبائل اوس وخزرج کی سرداری کے تاج سے مزین نہ ہونے پایا تھا کہ اسلام کی آواز مدینہ تک پہنچ گئی اور حالات نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا۔یہی وجہ ہے کہ عبداللہ بن ابی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ تشریف لانے کو ایک ایسے رقیب کی آمد سمجھا جس نے اس سے اوس اور خزرج کی سرداری کا مجوزہ تاج چھین لیا۔چنانچہ اس کے دل میں حسد و عداوت کی آگ سلگنے لگ گئی اور چونکہ وہ اتنی جرات نہیں رکھتا تھا کہ اپنے قبیلہ والوں کے خلاف ہو کر کھلم کھلا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں کھڑا ہو سکے اس لئے اُس نے بر ملاطور پر مخالفت کرنے کی بجائے خفیہ عداوت اور ریشہ دوانی کا طریق شروع کر دیا اور جنگ بدر کے بعد اس نے بظاہر اسلام بھی قبول کر لیا، مگر اس کے دل کا یہ مرض کم نہ ہوا اور آخر اسی حالت میں اس نے جان دی لے نزول قبا۔۲۰ ستمبر ۶۲۲ء مدینہ اور اس کی آبادی کے یہ مختصر حالات بیان کرنے کے بعد ہم اپنے اصل مضمون کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔یہ بیان کیا جاچکا ہے کہ جب انصار کے کانوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی آواز پہنچی تو مدینہ کا میدان تکبیر کے نعروں سے گونج اٹھا اور لوگ جلدی جلدی اپنے ہتھیاروں کو درست کر کے نہایت شوق کے ساتھ اس سمت میں لپکے جدھر سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا رہے تھے۔یہ وقت بھی ایک عجیب وقت تھا۔سرور عالم یعنی خدا کا وہ مقدس فرستادہ جس کے وجود میں نبوت ورسالت کے پیغام نے اپنے کمال کو پہنچنا تھا اپنے عزیز واقارب کے مظالم سے تنگ آکر اپنے وطن سے نکلتا ہے اور ایک ایسی بستی کی طرف آتا ہے جو د نیوی رشتہ کے لحاظ سے گویا ایک غیروں کی بستی ہے مگر خدا انہی غیروں کے دلوں میں وہ محبت ڈال دیتا ہے کہ جس کے سامنے خون کے رشتے کی محبت بالکل بیچ نظر آتی ہے اور آج سے مدینہ کے اوس وخزرج کی قسمت اسلام کے نوشتہ تقدیر کے ساتھ اس طرح مخلوط طور پر بن دی جاتی ہے کہ ناممکن ہے کہ دنیا کا کوئی مورخ ایک کے ذکر سے دوسرے کے ذکر کو جدا کر سکے۔بیشک اسلام نے عرب کے ان بادیہ نشینوں کو جن کے - 1 : مدینہ اور اس کی آبادی کے حالات کتاب معجم البلدان اور الروض الانف اور دیگر کتب تاریخ و جغرافیہ سے ماخوذ ہیں۔