سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 259 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 259

۲۵۹ کو جو سعد کے واقف تھے اطلاع ہوئی تو انہوں نے ان کو ظالم قریش کے ہاتھ سے چھڑا دیا۔ہجرت میثرب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک دفعہ رویا میں یہ بتایا گیا تھا کہ آپ کو ایک دن مکہ سے ہجرت کر کے کسی دوسری جگہ جانا ہوگا اور ساتھ ہی آپ کو ہجرت کی جگہ دکھائی گئی جو ایک باغوں اور چشموں والی جگہ تھی۔چونکہ ابھی تک اس کی تشریح آپ پر نہیں کھلی تھی اور تشریح سے قبل ایک نبی بھی بعض اوقات اپنے اجتہاد میں غلطی کر سکتا ہے، اس لیے آپ فرماتے ہیں کہ: ذَهَبَ وَهُلِيُّ إِلَى أَنَّهَا الْيَمَامَةُ أَوْ حَجَرُ فَإِذَا هِيَ مَدِينَةُ يَثْرِبَ یعنی ” میرا خیال اس طرف گیا کہ یہ جگہ یمامہ یا حجر ہے ( جونجد میں دوشاداب جگہیں ہیں) مگر وہ بیٹرب نکل آیا۔“ چنانچہ جب یثرب میں اسلام کا چرچا ہونے لگا تو تب آپ پر یہ منکشف ہوا کہ ہجرت کی جگہ بیٹرب ہے نہ کہ یمامہ یا حجر۔اس کے بعد جب انصار کے ساتھ سب قول و قرار ہو چکا اور وہ ایک دفاعی عہد و پیمان کی بیعت کر کے واپس چلے گئے تو آپ نے مسلمانوں سے فرمایا کہ اب جو لوگ جاسکیں وہ سب میثرب کی طرف ہجرت کر جائیں۔چنانچہ تھوڑے ہی عرصہ میں باوجود قریش کی طرف سے کئی قسم کی روکوں کے اکثر مسلمان ہجرت کر گئے اور مکہ کے بہت سے مکانات خالی ہو گئے اور بالآ خر صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکر اور حضرت علی اور ان کے اہل و عیال اور ایسے کمزور لوگ جو ہجرت کی طاقت نہ رکھتے تھے یا جنہیں قریش ہجرت کے لیے نکلنے نہ دیتے تھے باقی رہ گئے۔یہ سب مہاجرین مدینہ اور انصار کے مکانات میں متفرق طور پر بطور مہمان کے ٹھہرے اور اسی حالت میں رہے یہاں تک کہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ پہنچ گئے اور مہاجرین کے واسطے آہستہ آہستہ الگ مکانات کا انتظام ہو گیا۔مدینہ والوں نے جن کو مہاجرین آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت کرنے اور پناہ دینے کی وجہ سے انصار کہتے ہیں نہایت گرمجوشی کے ساتھ مہاجرین کا استقبال کیا اور اپنے حقیقی بھائیوں سے بڑھ کر اُن کے ساتھ سلوک کیا۔چنانچہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ پہنچے تو آپ نے سب مہاجرین کو انصار کی تعریف میں رطب اللسان پایا ہے خدا تعالیٰ کا نبی مہاجر کے لباس میں اب ہم اس عظیم الشان واقعہ کے قریب پہنچ گئے ہیں جس سے اسلام میں ایک نئے دور کا آغاز ہوتا ہے یعنی ا : ابن سعد طبری وابن ہشام : بخاری باب الہجرت : ابن ہشام، زرقانی ونیس