سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 260
۲۶۰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنے وطن مالوف کو چھوڑ کر یثرب کی طرف ہجرت کر جانا۔اسلامی سنہ جو سن ہجری کہلاتا ہے اسی انقلابی تاریخ سے شمار کیا جاتا ہے۔جب تمام مسلمان مدینہ کی طرف ہجرت کر گئے تو قریش کو اپنی سابقہ کا رروائیوں کی وجہ سے اندیشہ ہوا کہ اس طرح تمام مسلمانوں کا وطن سے بے وطن ہو جانا ضرور کوئی رنگ لائے گا۔علاوہ ازیں ان کو یہ بھی غصہ تھا کہ ان کا شکار اُن کے ہاتھ سے نکلا جاتا ہے، اس لیے انہوں نے اپنی جگہ سوچا کہ کوئی ایسی تدبیر کریں جس سے یہ سلسلہ ہمیشہ کے لیے مٹ جائے اور اُن کے مظالم کی پاداش کا کوئی سوال باقی نہ رہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ابھی مکہ میں ہی تھے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہجرت کے متعلق اجازت کے منتظر تھے۔مکہ والوں نے دیکھا کہ یہ موقع بہت اچھا ہے۔مسلمان سب جاچکے ہیں اور محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) اب گویا اکیلا تن تنہا ہے۔اس لیے اس کے متعلق کوئی ایسی تدبیر ہو کہ بس اس کا خاتمہ ہی ہو جائے ؛ چنانچہ وہ اس خیال سے اپنے قومی مشورہ گاہ یعنی دارالندوہ میں جمع ہوئے اور باہم مشورہ کرنے لگے کہ کیا کیا جاوے۔اس مشورہ میں قریباً ایک سو قریش شامل تھے اور ایک ابلیس صفت معمر نجدی شیخ بھی شریک تھا۔پیش آمدہ صورت حال پر گفت و شنید ہونے کے بعد مشورہ کے آخری مراحل میں یوں گفتگو ہوئی: ایک شخص : محمد و آہنی زنجیروں سے جکڑ کر ایک کمرہ میں بند کر دو کہ و ہیں پڑا پڑا ہلاک ہو جائے۔شیخ نجدی یہ رائے درست نہیں کیونکہ جب محمد کے رشتہ داروں اور متبعین کو علم ہوگا تو وہ ضرور حملہ کر کے آئیں گے اور اس کو چھڑا لیں گے اور پھر فساد آگے سے بھی بڑھ جائے گا۔دوسرا شخص : محمد کو مکہ سے جلا وطن کر دو۔جب وہ ہماری آنکھوں سے دور ہو گیا اور ہمارے شہر سے نکل گیا تو ہمیں کیا کہ وہ کہاں جاتا ہے اور کیا کرتا ہے۔ہمارے شہر کو اس فتنہ سے نجات مل جائے گی۔شیخ نجدی : کیا تم نے محمد کی شیریں زبانی اور طلاقت لسانی اور سحر بیانی نہیں دیکھی۔اگر وہ یہاں سے یونہی سلامت نکل گیا تو یقین جانو کہ اس کے بہکائے میں آ کر کوئی نہ کوئی قبیلہ عرب تمہارے خلاف اُمڈ آئے گا اور پھر تم اس کے خلاف کچھ نہ کر سکو گے۔غرض اسی طرح تھوڑی دیر تک باہم گفتگو ہوتی رہی۔کسی نے کچھ رائے دی اور کسی نے کچھ۔آخر ابو جہل بن ہشام بولا: ابوجہل : میری رائے تو یہ ہے کہ قریش کے ہر اک قبیلہ سے ایک ایک جوان چنا جائے اور اُن کے ہاتھ میں تلواریں دے دی جاویں۔پھر یہ لوگ ایک آدمی کی طرح اکٹھے ہو کر محمد پر حملہ کریں اور اسے قتل کر