سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 258
۲۵۸ جب نقیبوں کا تقرر ہو چکا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چا عباس بن عبدالمطلب نے انصار سے تاکید کی کہ انہیں بڑی ہوشیاری اور احتیاط سے کام لینا چاہیئے کیونکہ قریش کے جاسوس سب طرف نظر لگائے بیٹھے ہیں ایسا نہ ہو کہ اس قول واقرار کی خبر نکل جائے اور مشکلات پیدا ہو جائیں۔ابھی غالبا وہ یہ تاکید کر ہی رہے تھے کہ گھائی کے اوپر سے رات کی تاریکی میں کسی شیطان کی آواز آئی کہ اے قریش! تمہیں بھی کچھ خبر ہے کہ یہاں (نعوذ باللہ ) مدغم اور اس کے ساتھ کے مرتدین تمہارے خلاف کیا عہد و پیمان کر رہے ہیں۔اس آواز نے سب کو چونکا دیا مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بالکل مطمئن رہے اور فرمایا کہ اب آپ لوگ جس طرح آئے تھے اُسی طرح ایک ایک دو دو ہو کر اپنی قیام گاہوں میں واپس چلے جائیں۔عباس بن نضلہ انصاری نے کہا۔"یا رسول اللہ ! ہمیں کسی کا ڈر نہیں ہے۔اگر حکم ہو تو ہم آج صبح ہی ان قریش پر حملہ کر کے انہیں ان کے مظالم کا مزہ چکھا دیں۔آپ نے فرمایا ”نہیں نہیں مجھے ابھی تک اس کی اجازت نہیں ہے۔بس تم صرف یہ کرو کہ خاموشی کے ساتھ اپنے اپنے خیموں میں واپس چلے جاؤ جس پر تمام لوگ ایک ایک دو دو کر کے دبے پاؤں گھائی سے نکل گئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنے چا عباس کے ساتھ مکہ میں واپس تشریف لے آئے۔قریش کے کانوں میں چونکہ بھنک پڑ چکی تھی کہ اس طرح رات کو کوئی خفیہ اجتماع ہوا ہے۔وہ صبح ہوتے ہی اہل یثرب کے ڈیرہ میں گئے اور ان سے کہا کہ ”آپ کے ساتھ ہمارے دیرینہ تعلقات ہیں اور ہم ہر گز نہیں چاہتے کہ ان تعلقات کو خراب کریں مگر ہم نے سنا ہے کہ گذشتہ رات محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے ساتھ آپ کا کوئی خفیہ سمجھوتہ ہوا ہے۔یہ کیا معاملہ ہے؟ اوس اور خزرج میں سے جو لوگ بت پرست تھے ان کو چونکہ اس واقعہ کی کوئی اطلاع بی تھی، وہ سخت حیران ہوئے اور صاف انکار کیا کہ قطعا کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا۔عبد اللہ بن اُبی بن سلول بھی جو بعد میں منافقین مدینہ کا سردار بنا۔اس گروہ میں تھا۔اس نے کہا۔”ایسا ہر گز نہیں ہوسکتا۔بھلا یہ ممکن ہے کہ اہل میثرب کوئی اہم معاملہ طے کریں اور مجھے اس کی اطلاع نہ ہو؟ غرض اس طرح قریش کا شک رفع ہوا اور وہ واپس چلے آئے۔اس کے تھوڑی ہی دیر بعد انصار واپس یثرب کی طرف کوچ کر گئے لیکن ان کے کوچ کر جانے کے بعد قریش کو کسی طرح اس خبر کی تصدیق ہوگئی کہ واقعی اہل میٹر ب نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی عہد و پیمان کیا ہے جس پر ان میں سے بعض آدمیوں نے اہل میٹرب کا پیچھا کیا۔قافلہ تو نکل گیا تھا مگر سعد بن عبادہ کسی وجہ سے پیچھے رہ گئے تھے اُن کو یہ لوگ پکڑ لائے اور مکہ کے پتھر یلے میدان میں لا کر خوب زدو کوب کیا اور سر کے بالوں سے پکڑ کر ادھر ادھر گھسیٹا۔آخر جبیر بن مطعم اور حارث بن حرب