سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 223 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 223

۲۲۳ مخلوط ہو گئے ہیں۔واللہ اعلم دوسرا واقعہ اسراء کا ہے۔اسراء بھی ایک عربی لفظ ہے جس کے معنے کسی کو رات کے وقت ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے یا سفر کرانے کے ہیں۔چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ روحانی سیر رات کے وقت کرائی گئی تھی ، اس لیے اس کا نام اسراء رکھا گیا۔اسراء کے متعلق جو ذکر قرآن شریف میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ: سُبْحَنَ الَّذِي أَسْرَى بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَا الَّذِي بُرَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ أَيْتِنَا إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ وَإِذْ قُلْنَا لَكَ إنَّ رَبَّكَ أَحَاطَ بِالنَّاسِ وَمَا جَعَلْنَا الرُّؤْيَا الَّتِى أَرَيْنكَ إِلَّا فِتْنَةٌ لِلنَّاسِ " یعنی پاک ہے وہ خدا جو اپنے بندے کو ایک رات کے دوران میں مسجد حرام سے لے کر مسجد اقصیٰ تک لے گیا جس کے ماحول کو ہم نے برکت دی ہے تا کہ ہم اپنے اس بندے کو اپنے بعض نشانات دکھاویں۔بے شک خدا بہت سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔۔۔۔یہ وہی موقع تھا یہ جب اے رسول ہم نے تجھے یہ کہا کہ تیرے رب نے اب لوگوں کو گھیر لیا ہے اور جو رؤیا ہم نے تجھے دکھائی وہ لوگوں کے لیے ایک آزمائش تھی۔“ اور حدیث میں جو تفصیلات اسراء کے واقعہ کی بیان ہوئی ہیں ، ان کا خلاصہ یہ ہے کہ: ایک رات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ ایک خدائی فرشتہ آپ کے پاس آیا اور ایک گدھے سے بڑا مگر خچر سے چھوٹا جانور بُراق نامی جو نہایت خوبصورت سفید رنگ لمبے جسم کا تھا آپ کے سامنے پیش کر کے اس پر آپ کو سوار کیا اور پھر آپ کو ساتھ لے کر بیت المقدس کی طرف روانہ ہو گیا۔اس جانور کا قدم اس تیزی کے ساتھ اٹھتا تھا کہ ہر قدم نظر کی انتہائی حد تک لے جاتا تھا اور آپ بہت جلد بیت المقدس میں پہنچ گئے۔یہاں آپ نے اس جانور کو اس حلقہ میں باندھ دیا جہاں گذشتہ انبیاء اسے باندھا کرتے تھے اور پھر آپ مسجد میں تشریف لے گئے۔یہاں گذشتہ انبیاء کی ایک جماعت جن میں حضرت ابراہیم اور حضرت موسیٰ اور حضرت عیسی علیہم السلام خاص طور پر مذکور ہوئے ہیں، پہلے سے موجود تھی۔آپ نے ان انبیاء کے ساتھ مل کر نماز پڑھی جس میں آپ امام ہوئے اور باقی انبیاء مقتدی بنے۔اس کے بعد جبرائیل نے ( کیونکہ یہ فرشتہ جبرائیل تھا ) آپ کے سامنے دو پیالے پیش کئے۔ل : سورۃ بنی اسرائیل:۲ : سورۃ بنی اسرائیل:۶۱