سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 209 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 209

۲۰۹ قرآن شریف میں جن کا لفظ انس یعنی عامۃ الناس کے مقابلہ میں امراء کے طبقہ کے لئے استعمال ہوا ہے اور ان معنوں میں یہ لفظ عمو ما بُرے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔اسی طرح ایسی قوموں پر بھی جن کا لفظ بول دیتے ہیں جو کسی ایسی علیحدہ اور منقطع جگہ میں آباد ہوں کہ دوسرے لوگوں کے ساتھ ان کا زیادہ میل ملاپ ممکن نہ ہو اور انہی دو معنوں کے پیش نظر بعض محققین نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جنوں کے وفد کے حاضر ہونے سے یہ مراد لیا ہے کہ یہ لوگ یا تو خاص امراء کے طبقہ سے تعلق رکھتے ہوں گے جنہوں نے بر ملا طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے سے پر ہیز کیا اور علیحدگی میں آپ کا کلام سن کر واپس چلے گئے اور یا وہ کسی دور افتادہ قوم کے افراد ہوں گے جو اپنے ماحول کی وجہ سے دوسرے لوگوں سے بالکل جدا اور علیحدہ رہتی ہوگی۔ہمیں ان معنوں کے قبول کرنے میں کوئی تامل نہیں ہے اور اگر نخلہ میں جنوں کے وفد کے حاضر ہونے سے مراد امراء کے کسی وفد کا حاضر ہونا یا کسی دور افتادہ منقطع قوم کے افراد کا پیش ہونا مراد ہے تو پھر اس میں خدا تعالیٰ کا یہ اشارہ ہوگا کہ اے رسول ! مکہ اور طائف میں بظاہر اپنی ناکامیوں کو دیکھ کر پریشان اور دلگیر نہ ہو کیونکہ اب وقت آتا ہے کہ عوام الناس تو کیا بڑے بڑے امیر و کبیر لوگ تیرے جھنڈے کے نیچے جمع ہوں گے اور دنیا کی دور افتادہ قو میں تیری غلامی کا جوا اپنی گردنوں پر رکھیں گی۔لیکن اگر جن سے وہ مخفی مخلوق مراد ہے جس کی تفصیلات کا ہم کو علم نہیں لیکن اس کا وجود نصوص قرآنی کے ساتھ ثابت ہے تو اس میں بھی کسی عقلمند انسان کو شبہ کی گنجائش نہیں ہوسکتی کیونکہ خدا تعالیٰ کی قدرت اور اس کی خلق کا دائرہ اس قدر وسیع ہے کہ کسی مخلوق کی نظر اس کی انتہاء کو نہیں پاسکتی جہاں انسان کے سوا اس مر کی دنیا میں ہزاروں لاکھوں بلکہ کروڑوں قسم کی دوسری مخلوق موجود ہے جن میں سے بعض قسم کی مخلوق مرئی ہونے کے باوجود ہماری کوتاہ نظر سے پوشیدہ رہتی ہے اور اس مخلوق کے وجود پر علم طب اور سائنس کے دوسرے شعبے یقینی قطعی شاہد ہیں تو پھر اس بات کے ماننے میں کیا تامل ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی مخلوق جن کی قسم کی بھی موجود ہوگی جو باوجود انسانی نظر سے پوشیدہ ہونے کے اسی طرح زندہ اور قائم ہوگی جس طرح انسان اپنے دائرہ کے اندر زندہ اور قائم ہے۔بے شک اسلام ہمیں اس رنگ میں جنات کی تعلیم نہیں دیتا کہ ہم موہومہ بھوتوں وغیرہ کی صورت میں کسی ایسی مخلوق کے قائل ہوں جس کے افراد انسانی نظروں سے پوشیدہ رہتے ہوئے انسان کے لیے ایک تماشہ بنتے پھریں اور انسان کے سامنے مختلف صورتیں بدل بدل کر اُس کی تفریح یا تخویف کا سامان بہم پہنچائیں۔یہ خیالات جاہلانہ تو ہم پر مبنی ہیں۔جن کا کوئی ثبوت