سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 159
۱۵۹ عامر بن فہیرہ بھی ایک غلام تھے انہیں بھی اسلام کی وجہ سے سخت تکالیف دی جاتی تھیں۔ان کو حضرت ابو بکر نے خرید کر اپنے پاس بکریاں چرانے پر نو کر رکھ لیا۔لبینہ بوعدی کی لونڈی تھی۔اسلام لانے سے پہلے عمر اس کو اتنا مارتے کہ مارتے مارتے تھک جاتے ، لیکن جب ذرا دم لے لیتے تو پھر اُسی طرح مارنا شروع کر دیتے وہ سامنے سے صرف اتنا کہتی کہ عمرا اگر تم نے اسلام قبول نہ کیا تو خدا اس ظلم کو بے انتقام نہیں چھوڑے گا۔زنیرہ بنومخزوم کی لونڈی تھی۔ابو جہل نے اُسے اس بے دردی سے پیٹا کہ اس کی آنکھیں جاتی رہیں۔ابوجہل اس کی طرف اشارہ کر کے طنزاً کہا کرتا تھا کہ اگر اسلام سچا ہوتا تو کیا بھلا اسے مل جاتا اور ہم محروم رہتے۔صہیب بن سنان رومی ہر چند کہ اب غلام نہ تھے اور تھے بھی نسبتاً خوشحال لیکن قریش ان کو اتنا پیٹتے کہ اُن کے حواس مختل ہو جاتے۔یہ وہی صہیب ہیں جن کو حضرت عمر نے زخمی ہونے پر امام الصلوۃ مقرر کیا تھا اور انہوں نے ہی حضرت عمر کا جنازہ پڑھایا تھا یا خباب بن الارت بھی اب غلام نہ تھے بلکہ آزاد تھے اور لوہار کا کام کرتے تھے ،مگر ایک دفعہ قریش نے اُن کو پکڑ کر انہی کی بھٹی کے دہکتے ہوئے کوئلوں پر الٹالٹا دیا اور ایک شخص اُن کی چھاتی پر چڑھ گیا، تا کہ کروٹ نہ بدل سکیں؛ چنانچہ وہ کوئلے اُسی طرح جل جل کر اُن کے نیچے ٹھنڈے ہو گئے۔خباب نے مدتوں کے بعد حضرت عمرؓ سے یہ واقعہ بیان کیا اور اپنی پیٹھ کھول کر دکھائی جو زخموں کے داغوں سے بالکل سفید تھی۔خباب کے متعلق یہ روایت بھی آتی ہے کہ ایک دفعہ مکہ کے ایک رئیس عاص بن وائل نے اُن سے کچھ تلوار میں بنوائیں اور جب خباب نے قیمت کا مطالبہ کیا تو وہ کہنے لگا تم لوگ یہ دعویٰ کرتے ہو کہ جنت میں انسان کو ہر قسم کی نعمت سونا اور چاندی وغیرہ سب حسب خواہش ملے گی۔سو تم اپنی تلواروں کی قیمت مجھ سے جنت میں آکر لے لینا۔کیونکہ واللہ اگر تمہیں جنت میں جانے کی توقع ہے تو مجھے تو بدرجہ اولیٰ ہونی چاہئے اور یہ کہہ کر قیمت دینے سے انکار کر دیا ہے عمار اور ان کے والد یا سر اور ان کی والدہ سمیہ کو بنی مخزوم جن کی غلامی میں سمیہ کسی وقت رہ چکی تھیں اتنی تکالیف دیتے تھے کہ ان کا حال پڑھ کر بدن پر لرزہ پڑنے لگتا ہے۔ایک دفعہ جب ان فدائیانِ اسلام کی جماعت کسی جسمانی عذاب میں مبتلا تھی اتفاقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس طرف آ نکلے۔ل : اسد الغابہ و تاریخ کامل بخاری ومسلم بحوالہ تلخیص الصحاح جلدا صفحه ۲۰۶