سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 148 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 148

۱۴۸ رکھی۔عبداللہ ابن ام مکتوم کو اپنی غلطی کی طرف تو خیال نہیں گیا مگر آپ کی اس بے التفاتی پر ملال ہوا اور انہوں نے یہ خیال کیا کہ چونکہ ولید ایک بڑا آدمی ہے اس لیے آپ نے شاید اس کے مقابلہ میں مجھ غریب کی پروا نہیں کی۔حالانکہ یہ خیال بالکل غلط اور بے بنیاد تھا کیونکہ اس وقت غریب امیر کا کوئی سوال نہ تھا بلکہ آپ ایک ایسے شخص کو تبلیغ فرمانے میں مصروف تھے جس کو ان باتوں کے سنے کا بہت کم موقع ملتا تھا اور ابن ام مکتوم کے لیے یہ موقع ہر وقت میسر تھا اس لیے آپ نے اس موقع کو ہاتھ سے دینا پسند نہ فرمایا اور ابن ام مکتوم کے قطع کلام کو بُرامانا جو حقیقت میں تھا بھی آداب مجلس کے خلاف۔مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کریمانہ کا یہ عالم تھا کہ جب آپ کو ابن ام مکتوم کے دلی ملال پر اطلاع ہوئی اور ایک قرآنی وحی بھی اس بارے میں نازل ہوئی تو آپ نے اُن کی بڑی دلداری کی اور عرب کے طریق کے مطابق اپنی چادر مبارک بچھا کر اس پر ان کو بٹھایا ہے پھر اس زمانہ میں مسلمان ہونے والوں میں ایک جعفر بن ابی طالب تھے جو حضرت علیؓ کے حقیقی بھائی تھے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی عزیز تھے۔جعفر کے متعلق مؤرخین لکھتے ہیں کہ خلق اور خلق میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت ملتے تھے۔پھر عمار بن یاسر تھے جو قبیلہ مذحج سے تھے اور اپنے باپ یا سر اور والدہ سمیہ کے ساتھ مکہ میں رہتے تھے۔پھر صہیب بن سنان تھے جو عام طور پر صہیب رومی کے نام سے مشہور ہیں مگر دراصل وہ رومی نہ تھے بلکہ کسی زمانہ میں جبکہ ان کا باپ ایرانی حکومت کی طرف سے کسی جگہ کا عامل تھا رومیوں کے ہاتھ قید ہو کر غلام بنا لیے گئے تھے اور پھر کچھ مدت تک اُن میں بطور غلام مقیم رہے بالآ خر عبداللہ بن جدعان قرشی نے جو ملکہ کا ایک رئیس تھا انہیں خرید کر آزاد کر دیا تھا۔صہیب جب مسلمان ہوئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نیک فال کے طور پر فرمایا کہ یہ ہمارا پہلا رومی پھل ہے۔صہیب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت کے اتنے دلدادہ تھے کہ جب یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے لگے تو قریش نے ان کو روکا کہ تو ہمارے اندر ایک غریب غلام کی حیثیت میں آیا تھا اور اب تو ہم میں رہ کر امیر ہو گیا ہے اس لیے ہم تجھے نہیں جانے دیتے۔انہوں نے کہا۔تم میری ساری دولت لے لو اور مجھے جانے دو۔اس شرط پر قریش نے انہیں جانے دیا۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ کی خبر پہنچی تو آپ نے خوشی کے ساتھ فرمایا کہ: صہیب نے بہت نفع والی تجارت کی ہے۔جب حضرت عمر اپنے عہد خلافت میں مہلک طور پر له : قرآن شریف سورۃ عبس :۲ و تفسیر ابن جرير سورة مذکور واسد الغابه