سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 147 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 147

۱۴۷ ہیں کہ دار ارقم میں اسلام لانے والوں میں آخری شخص حضرت عمرؓ تھے جن کے اسلام لانے سے مسلمانوں کو بہت تقویت پہنچی اور وہ دار ارقم سے نکل کر بر ما تبلیغ کرنے لگ گئے۔دار ارقم میں جو اشخاص ایمان لائے وہ بھی سابقین میں شمار ہوتے ہیں۔اُن میں سے زیادہ مشہور یہ ہیں۔اوّل مصعب بن عمیر جو بنو عبد الدار میں سے تھے اور بہت شکیل اور حسین تھے اور اپنے خاندان میں نہایت عزیز و محبوب سمجھے جاتے تھے یہ وہی نوجوان بزرگ ہیں جو ہجرت سے قبل یثرب میں پہلے اسلامی مبلغ بنا کر بھیجے گئے اور جن کے ذریعہ مدینہ میں اسلام پھیلا۔پھر زید بن الخطاب تھے جو حضرت عمرؓ کے بڑے بھائی تھے۔یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔حضرت عمرؓ کو ان کی وفات کا بہت صدمہ ہوا؛ چنانچہ جب اُن کے عہد خلافت میں کسی شخص نے اُن کے سامنے اپنے بھائی کا مرثیہ پڑھا، تو انہوں نے فرمایا کہ اگر میں ایسے شعر کہہ سکتا تو میں بھی اپنے بھائی کا ایسا مرثیہ کہتا۔اُس شخص نے جواب دیا۔”اے امیر المؤمنین ! جس قسم کی مبارک موت آپ کے بھائی کو نصیب ہوئی ہے وہ اگر میرے بھائی کو نصیب ہوتی تو میں کبھی بھی اُس کا نوحہ نہ کرتا اور مرثیہ نہ کہتا۔“ حضرت عمرؓ کی طبیعت بڑی نکتہ شناس تھی۔فرمایا۔خُدا کی قسم جس طرح آج تم نے اس قول سے مجھے تسلی دی ہے ایسی کبھی کسی نے نہیں دی اور اس کے بعد پھر کبھی اپنے بھائی کی وفات پر اس طرح غم کا اظہار نہیں کیا ہے پھر اس زمانہ میں ایمان لانے والوں میں سے ایک عبد اللہ بن ام مکتوم تھے جو نابینا تھے اور حضرت خدیجہ کے عزیزوں میں سے تھے۔اُن کے متعلق ایک دلچسپ روایت آتی ہے کہ ایک دفعہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ولید بن مغیرہ کو جو قریش کا ایک بہت معزز رئیس تھا نہایت شوق اور سرگرمی سے تبلیغ فرما رہے تھے ابن ام مکتوم جلدی جلدی آئے اور کسی دینی مسئلہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ دریافت کرنا چاہا لیکن اپنے شوق میں انہوں نے یہ خیال نہ کیا کہ یہاں کن لوگوں کا مجمع ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کس کام میں مصروف ہیں اور آداب مجلس رسول کے ماتحت ان کو ایسے حالات میں کیا کرنا چاہیئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو موقع کے لحاظ سے اُن کا یہ فعل پسند نہ آیا اور آپ کے چہرہ پر نا پسندیدگی کے آثار ظاہر ہوئے مگر آپ کے اخلاق کریمانہ کا یہ تقاضا تھا کہ آپ نے اُن کو زبان سے کچھ نہیں فرمایا بلکہ صرف آپ نے یہ کیا کہ اُن کی طرف سے بے التفاتی کر کے ولید سے اپنی بات جاری ل : زرقانی و خمیس : اسد الغابه