سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 111 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 111

" ابواء میں انتقال کیا اور یہیں دفن کی گئیں۔زمانہ نبوت میں جب آپ ایک دفعہ اس مقام پر سے گذرے تو اپنی والدہ کی قبر پر بھی تشریف لے گئے اور اُسے دیکھ کر چشم پر آب ہو گئے۔صحابہ نے یہ نظارہ دیکھا تو وہ بھی رونے لگے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا۔اللہ نے مجھے یہ تو اجازت دی کہ میں اپنی والدہ کی قبر کو دیکھوں لیکن دُعا کرنے کی اجازت نہیں دی ہے اس سے یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ آپ کی والدہ کی مغفرت نہ ہوگی۔کیونکہ یہ معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے اور اس کے متعلق کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ کیا ہوگا اور کیا نہ ہوگا۔لیکن اس سے صرف یہ پتہ چلتا ہے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اور موقعوں پر فرمایا ہے کہ جو شخص شرک کی حالت میں فوت ہو اُس کے لئے دعا مانگنا درست نہیں ہے بلکہ اس کے معاملہ کو خدا کے سپرد کرنا چاہئے۔والدہ کی وفات ہوئی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یسم کی پوری پوری حالت میں آگئے اور چھوٹی عمر میں وطن سے باہر عزیز واقرباء سے دُور ماں کی جدائی کا صدمہ ایسی حالت میں کہ باپ پہلے ہی گذر چکا ہو کوئی معمولی صدمہ نہیں ، چنانچہ ان باتوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب پر ایک گہرا اور مستقل اثر ڈالا۔بے شک آپ اللہ کی طرف سے رحمۃ للعالمین بنا کر مبعوث کئے گئے۔مگر ظاہری اسباب کے لحاظ سے ان باتوں کا بھی آپ کی طبیعت پر بہت اثر ہوا اور ایک حد تک یہ انہی ابتدائی صدموں کا نتیجہ تھا کہ آپ کے اخلاق میں غرباء کی محبت اور مصیبت زدوں کے ساتھ ہمدردی نے ایک خاص ممتاز رنگ اختیار کیا۔قرآن شریف نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یشم کا ان الفاظ میں ذکر کیا ہے: اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيمًا فَاوى۔۔۔فَأَمَّا الْيَتِيمَ فَلَا تَقْهَرْ یعنی کیا ہم نے تجھے یتیم پا کر پناہ نہیں دی۔پس اب تیرا فرض ہے کہ تو بھی یتیموں کے ساتھ شفقت اور نرمی کا سلوک کرے۔عبدالمطلب کی کفالت والدہ کی وفات کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خادمہ ام ایمن کے ساتھ مکہ پہنچے۔یہ ام ایمن وہی ہے جو آپ کے والد کی وفات پر ایک لونڈی کی حیثیت میں آپ کو ورثہ میں پہنچی تھی۔بڑے ہو کر آپ نے اسے آزاد کر دیا تھا اور اس کے ساتھ لے : یہ عام مؤرخین کی روایت ہے۔بعض روایتوں میں یہ ہے کہ آمنہ بنت وہب مکہ میں فوت ہوئی تھیں اور ان کی قبر مکہ کی وادی جون میں ہے۔واللہ اعلم ہے : مسلم وابن ماجہ سے : سورۃ الضحی آیت : ۷ ، ۱۰