سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 112 of 1001

سیرۃ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم — Page 112

۱۱۲ بہت احسان کا سلوک فرماتے تھے۔بعد میں ام ایمن کی شادی آپ کے آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ کے ساتھ ہوگئی اور اس کے بطن سے اسامہ بن زید پیدا ہوئے۔ام ایمن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد تک زندہ رہی۔بہر حال والدہ کی وفات کے بعد آپ ام ایمن کے ساتھ مکہ پہنچے اور وہاں پہنچ کر آپ کو عبدالمطلب نے براہ راست اپنی کفالت میں لے لیا۔عبد المطلب آپ کو بہت عزیز رکھتے تھے۔خانہ کعبہ کا طواف کرتے تو آپ کو اپنے کندھے پر بٹھا لیتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی اُن کے ساتھ بہت بے تکلف ہو گئے۔عبدالمطلب کی عادت تھی کہ محن کعبہ میں فرش بچھا کر بیٹھا کرتے تھے اور کسی کی مجال نہ تھی کہ اس فرش پر ان کے ساتھ بیٹھ سکے۔حتی کہ عبدالمطلب کے اپنے لڑکے بھی ہٹ کر بیٹھتے تھے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی محبت کے جوش میں سیدھے عبدالمطلب کے پاس جا بیٹھتے تھے اور وہ آپ کو دیکھ کر خوش ہوتے تھے۔آپ کے چچا بعض اوقات آپ کو فرش پر بیٹھنے سے روکتے تو عبدالمطلب ان کو منع کر دیتے اور کہتے کہ اسے تم کچھ نہ کہو۔عبدالمطلب کی وفات اس محبت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دن گذر رہے تھے کہ عبدالمطلب کو بھی پیغام اجل آ گیا جب ان کا جنازہ اُٹھا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ساتھ ساتھ تھے اور روتے جاتے تھے۔یہ تیسرا صدمہ تھا جو آپ کو بچپن میں اُٹھانا پڑا۔اس وقت آپ کی عمر آٹھ سال کی تھی اور عبد المطلب کی عمر اختلاف روایات کے ساتھ اسی سال سے لے کر ایک سو چالیس سال کی تھی۔مختلف بیویوں سے عبدالمطلب کے کئی بیٹے تھے جن میں سے زیادہ معروف کے نام یہ ہیں۔حارث، زبیر، ابوطالب، ابولہب، عبداللہ، عباس اور حمزہ۔ان میں ابو طالب اور عبداللہ کی ماں ایک تھی اور غالباً اسی نسبت سے عبدالمطلب نے مرتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ابو طالب کی کفالت میں دیا اور ان کو آپ کا خاص خیال رکھنے کی وصیت کی۔چنانچہ اس وقت سے آپ اپنے چچا ابوطالب کی کفالت میں رہنے لگے۔قومی کاموں میں سے سقایہ اور رفادہ کا کام جو عبد المطلب کے پاس تھا وہ انہوں نے اپنے زندہ لڑکوں میں سے بڑے لڑکے زبیر کے سپر د کیا۔مگر چونکہ یہ کام بہت سارو پیہ چاہتا تھا اس لئے زبیر نے اپنی طاقت سے زیادہ دیکھ کر دونوں کام ابو طالب کے سپر د کر دیئے لیکن ابو طالب بھی غریب آدمی تھے اس لئے رفادہ کا کام بن نوفل کی طرف منتقل ہو گیا اور سقایہ کا کام ابو طالب نے بالآ خر عباس کے سُپر دکر دیا جو ا: ابن سعد