سیرت حضرت اماں جان — Page 283
283 محلہ تھا۔آپ یہاں بھی بسا اوقات صبح کے وقت اچانک ہمارے گھر تشریف لے آیا کرتیں۔اور میری امی کا نام لے پکار تھیں۔میری امی اپنے بچوں سمیت بھاگتی ہوئی اماں جان کے پاس آجاتیں آپ ابا جان ( ڈاکٹر بدرالدین احمد صاحب حال بورینو ) کا تفصیلی حال دریافت کرتیں اور پوچھتیں کہ کیا ان کی طرف سے خیریت کی اطلاع آئی ہے۔پھر میری بڑی ہمشیرہ (اہلیہ صوفی مطیع الرحمن صاحب سابق مبلغ امریکہ ) کی خیریت دریافت کرتیں جوان دنوں امریکہ میں تھیں۔اور پھر باقی کے ایک ایک بچے کو دیکھتیں اور ان کے متعلق مختلف امور دریافت کرتیں اور امی ابھی اسی فکر میں ہوتیں کہ ہم اماں جان کی کیا خدمت کریں کہ آپ تشریف لے جاتیں۔حضرت اماں جان کو کسی گھر میں سبزی یا پھل لگے ہوئے دیکھ کر۔بہت خوشی ہوتی۔ہمارے گھر میں لگی ہوئی سبزیاں بہت خوشی سے دیکھتیں اور بتاتیں کہ مجھے فلاں سبزی بہت پسند ہے۔اور امی جان کبھی گھر کی سبزی تو ڑ کر حضرت اماں جان کی خدمت میں جا کر پیش کرتیں تو آپ بہت خوش ہوتیں۔میری دادی اماں مرحومہ اہلیہ خانصاحب مولوی فرزند علی خان صاحب ہر سال اپنے گھر کے لگے ہوئے انگور حضرت اماں جان کو کھلاتیں۔جس سے آپ بہت خوشی کا اظہار فرما ہیں۔اسی طرح مجھے حمید احمد صاحب اختر پسر مکرمی عبدالرحیم صاحب جلد ساز (حال ربوہ) نے بتایا۔کہ حضرت اماں جان جب بھی ان کے گھر آتیں تو ان کی امی کا نام لے کر پکار کر یہ دریافت کرتیں کہ تمہارے امرود کیسے ہیں۔اور خود جاکر امرود کے درختوں کو دیکھتیں۔ان کے گھر میں ایک درخت کو چھوٹے چھوٹے اور نہایت میٹھے امرود لگا کرتے تھے۔حضرت اماں جان ان کو بہت پسند فرماتیں۔گو یہ چھوٹے چھوٹے اور معمولی واقعات ہیں۔لیکن دلوں پر بہت گہرے اثرات چھوڑ گئے ہیں۔ان سے کسی قد را اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کو اپنی روحانی اولاد سے کس قدر انس تھا اور کس قدر لگاؤ۔۱۷۳