سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 282 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 282

282 احمدیت کی صداقت۔حضرت اماں جان کا وجود والدہ مکرمہ مکرم جمال الدین صاحب آف چنیوٹ آپ کی صحبت میں ایک وقار تھا۔عیب چینی۔غیبت۔شکوے گلے وغیرہ نام کو نہ تھے۔کوئی عورت فضول باتیں کرنے کی جرات نہ کرتی۔پند و نصائح تربیت و تدریس۔غمزدہ اور متفکر عورتوں کی دلجوئی۔مصیبت زدہ پریشان حال اور دیگر حاجت مندوں کی طرف سے دعا کی درخواستیں اور دعا ئیں جاری رہتیں۔الغرض ہر وقت اور ہر آن کوئی نہ کوئی سبق۔نمونہ نصیحت یا ثواب کا موقع موجود رہتا۔مجھے اپنا وطن بھول گیا۔پریشانیاں سکون وراحت سے بدل گئیں۔دیہاتی تمدن سے نکل کر ایک اعلیٰ درجے کے اسلامی اور شہری تمدن میں آگئی۔ایک نئی روشنی حاصل ہوگئی۔حضرت اماں جان کے گھر میں بیٹھ کر بہت کچھ دیکھا اور سیکھا۔اسے ایک فقرہ میں اس طرح ادا کر سکتی ہوں کہ احمدیت کی صداقت عورتوں پر عملی رنگ میں ثابت کرنے کے لئے حضرت اماں جان سکا وجود ہی کافی تھا۔۱۷۲ حضرت اماں جان کی روحانی اولاد تاثرات مکرم نصیر الدین احمد صاحب بی۔ایس سی۔ربوہ اس بات کا فیصلہ نہیں کیا جاسکتا۔کہ حضرت اماں جان کو اپنی جسمانی اولاد کو دیکھ کر زیادہ خوشی ہوتی تھی۔یا روحانی اولاد کو دیکھ کر۔یہ دو مختلف شیریں پھل تھے۔جو خدا تعالیٰ نے عطا کئے۔اور یہ دونوں ہی آپ کے لئے خوشی کا باعث تھے۔حضرت اماں جان کی جسمانی اولاد کے افراد ماشاء اللہ ایک سو گیارہ ہیں لیکن اس قد ر اولاد نے آپ کو اپنی روحانی اولاد کی خبر گیری اور اس سے پیار سے بے نیاز نہ کیا۔قادیان میں حضرت اماں جان دور دور کے محلوں میں اپنی ضعیف العمری کے باوجود اپنے روحانی بیٹوں اور بیٹیوں کی خبر گیری کے لئے جایا کرتی تھیں۔محلہ دارالشکر قادیان میں شمالی جانب آخری