سیرت حضرت اماں جان — Page 284
284 حضرت اماں جان کے انداز تربیت (سیدنا حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی) حضرت اماں جان بچوں کی تربیت کے بارہ میں بہت زیادہ توجہ دیتی تھیں۔اور اپ کے چند ایک خاص نکات ہیں جن کو بیان کرنا ضروری ہے۔بچے پر ہمیشہ اعتبار اور بہت پختہ اعتبار ظاہر کر کے اسکو والدین کے اعتبار کی شرم اور لاج ڈال دینا یہ آپ کا بڑا اصول تربیت تھا۔جھوٹ سے نفرت اور غیرت وغنا آپ کا اول سبق ہوتا تھا، اکثر فرما تھیں کہ بچہ کو عادت ڈالو کہ وہ کہنا مان لے۔پھر بے شک بچپن کی شرارت بھی آئے تو کوئی ڈر نہیں۔حضرت اماں جان فرماتی تھیں کہ میرے بچے جھوٹ نہیں بولتے۔آپ بچوں پر سختی نہ کرتیں تھیں۔لیکن آپ کا ایک خاص رعب تھا۔بچوں کی تربیت کے متعلق آپ یہ بھی بیان فرمایا کرتی تھیں کی پہلے بچے کی تربیت پر اپنا پور از ور گاؤ۔دوسرے ان کا نمونہ دیکھ کرخود ہی ٹھیک ہو جائیں گئے۔۱۷۴۔سیدنا حضرت خلیفۃ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ، حضرت اماں جان کے انداز تربیت کے بارہ میں فرماتے ہیں: حضرت اماں جان نے بچوں کی تربیت کے بہترین اصول اپنائے۔اور پھر اپنی اولاد میں جاری کئے۔اگر آپ بھی اپنی اولا د کو گندے اثرات سے بچانا چاہتی ہیں تو حضرت امان جان کے پاک نمونے پر عمل کریں۔یہ نسخہ بے خطا ہے۔بہت کار آمد نسخہ ہے۔جس نے بھی عمل کیا کامیابی پائی۔جھوٹ سے نفرت سب سے پہلی بات جو حضرت اماں جان بچوں کو سکھاتی تھیں وہ جھوٹ سے نفرت ہے۔بچپن سے ہی آپ بڑی کثرت سے بار بار اس بارہ میں تلقین فرمایا کرتی تھیں کہ جو مرضی خطا ہو جائے جو بھی اس کی سزا ملے لیکن ہرگز جھوٹ بول کر اس سے بچنے کی کوشش نہ کریں۔قرآن کریم جھوٹ کو شرک قرار دیتا ہے۔جو جھوٹ بول کر کسی بات سے بچنے کی کوشش کرتا ہے وہ شرک کرتا ہے۔سب سے زیادہ زور آپ جھوٹ سے نفرت کرنے پر دیتی تھیں۔