سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 192 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 192

192 کے ساتھ مضطر بانہ تھوڑی سی جگہ میں چکر کاٹ رہی تھیں۔اور میرے والد سے بار بار حال پوچھ رہی تھیں۔اور میں اماں جان کے اس فقرے کو محسوس کر رہی تھی۔مجھے فتح محمد کی بڑی تکلیف ہے۔۳۱۴ مکرمہ عزیز بخت صاحبہ اہلیہ مولانا غلام رسول صاحب را جیکی جب دار مسیح میں پہرہ کا انتظام لجنہ کی طرف سے شروع ہوا تو میری بھی ڈیوٹی لگی۔میں اور محلہ دار الرحمت کی ایک اور بہن پہرہ کے لئے حضرت اماں جان کے مکان پر حاضر ہوئیں۔حضرت اماں جان نے میری ساتھن کو حضرت امم طاہر کے مکان پر بھجوا دیا۔اور مجھے اپنے پاس رکھ لیا اور اپنی خادمہ سردار بیگم صاحبہ کو کہا کہ ان کا کھانا لنگر سے نہیں منگوانا یہ کھانا میرے ساتھ کھائیں گی اور مجھے فرمایا کہ جب بھی محلہ کی طرف سے پہرہ کی ڈیوٹی لگے آپ اور کسی جگہ نہ جائیں بلکہ میرے مکان پر ڈیوٹی دیں اور میرے پاس رہیں۔ایک دفعہ کھانا کھانے کے بعد میں نے آپ کے پاؤں دبانے شروع کئے۔حضرت اماں جان تھوڑی دیر میں سو گئیں۔میں نے اس خیال سے کہ آپ آرام فرمالیں دبانا چھوڑ دیا۔اور علیحدہ ہوکر بیٹھ گئی۔تھوڑی دیر میں مجھے غنودگی سی ہوئی اور میں بھی سوگئی۔جب ظہر کی اذان ہوئی تو حضرت اماں جان اٹھ کر وضو کے لئے تشریف لے گئیں۔میں جب نیند سے بیدار ہوئی تو حضرت اماں جان کو کمرہ میں نہ پا ک فو را با ہر نکلی۔آپ وضو فرمارہی تھیں۔مجھے دیکھ کر فرمایا۔کہ اذان ابھی ہوئی ہے نماز میں کافی دیر ہے تم آرام کرلو۔میں تو آہستگی سے آئی تھی تا کہ آہٹ سے بیدار نہ ہو جاؤ۔میں نے بھی وضو کیا اور نماز پڑھی۔پھر میں نے عرض کیا کہ اماں جان! میں بیت الدعا میں نفل پڑھ لوں؟ آپ نے فرمایا۔اجازت لینے کی ضرورت نہیں بیت الدعا میں جب چاہو نفل ادا کرو۔اس کے بعد جب بھی میں پہرہ کی ڈیوٹی پر جاتی حضرت اماں جان کے مکان پر ڈیوٹی دیتی۔کئی دفعہ میں اپنے ساتھ پھولوں کے ہار لے جاتی۔حضرت اماں جان بڑی خوشی سے ہاروں کو قبول فرما تیں۔ایک دفعہ جب میں پہرہ پر گئی تو حضرت اماں جان نے سوجی کا آٹا خود گوندھا سردار بیگم صاحبہ نے روٹی پکائی۔آپ نے اندر کمرے میں کھانا تناول فرمایا اور تبرک مجھے بھجوا دیا۔۳۲