سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 191 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 191

191 تشریف لے آئیں۔اور چودھری صاحب محترم کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے فرمایا۔وہ بلند پائے کا انسان ہے۔اس کو کوئی کوئی سمجھ سکتا ہے۔“ تقسیم ملک کے بعد جب میں ٹاٹانگر سے لاہور میں آئی۔تو حضرت اماں جان رتن باغ میں مقیم تھیں۔میں جا کر ملی۔حضرت اماں جان سکی آنکھوں میں آنسو تھے۔تھوڑی دیر کے بعد فرمایا: دو گڑیے تیرے ابا تے اوتھے ہی رہ گئے۔“ اور مجھے اپنے ساتھ لگالیا۔میں نے کہا۔اماں جان مجھے تو ذرا بھی گھبراہٹ نہیں۔آپ سب خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے خیریت سے آگئے۔تو سب کچھ آ گیا۔آبدیدہ ہوکر فرمایا۔مجھے فتح محمد کی بڑی تکلیف ہے“ اماں جان فداک روحی۔آپ کے آنسوؤں پر ہمارا سب کچھ قربان ! ہم سب یہاں ہیں۔اور آپ چلی گئیں۔اور ہم میں سے کوئی بھی آپ کے بدلے نہ جاسکا۔۱۹۴۸ء کے اپریل میں جب میرے ابا جان گورداسپور جیل سے رہا ہو کر آئے۔تو انہیں ایک رات بورسٹل جیل میں گزارنا تھی۔ہم بورسٹل جیل گئے ابا جان سے ملے۔اور انہوں نے باہر نکلتے ہی کہا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہم پر کتنے احسان ہیں۔انہوں نے خدا تعالیٰ کے ساتھ ہمارا تعلق اتنا گہرا کر دیا ہے کہ ہم کسی حالت میں مایوس نہیں ہوتے۔“ اس کے بعد فوراً کہا۔میں سب سے پہلے حضرت اماں جان اور مصلح موعود سے ملنا چاہتا ہوں۔میں نے بتایا کہ حضور تو سندھ تشریف لے گئے ہیں۔اور حضرت اماں جان یہیں ہیں۔ہم سیدھے رتن باغ پہنچے۔میں وہ محبت بھرا ایمان افروز نظارہ کبھی نہیں بھول سکتی۔ہم سیڑھیاں چڑھے۔ابا جان دروازے میں ٹھہر گئے۔میں حضرت اماں جان کے پاس پہنچی۔ان دنوں حضرت اماں جان کی طبیعت قادیان سے آکر کمر درد کی وجہ سے سخت خراب تھی۔آپ نیم غنودگی میں لیٹی ہوئی تھیں۔میں نے آہستہ سے کہا۔اماں جان ! میرے ابا آگئے ہیں اور باہر کھڑے ہیں۔اللہ! اللہ ! کس بجلی کی سی پھرتی سے اماں جان فوراً اٹھ کر کھڑی ہوگئیں۔کپڑا کمر کے گرد باندھا ہوا تھا۔ننگے پاؤں مجھ سے بھی پہلے دروازے کے پاس پہنچی ہوئی تھیں۔وہ اُم المومنین بے چینی