سیرت حضرت اماں جان — Page 193
193 ایک دفعہ حضرت سیدہ ام طاہر کے مکان کے چوبارہ پر مولوی صاحب ( میرے شوہر ) کی تقریر ہوئی۔حضرت اماں جان بھی سننے کے لئے تشریف لے گئیں۔واپسی پر جب میں آ رہی تھی تو میرے ساتھ دو چھوٹے بچے تھے اس لئے آہستہ آہستہ چلتی تھی اور دوسروں سے پیچھے رہ گئی حضرت اماں جان جو آگے نکل گئی تھیں مجھے دیکھ کر ٹھہر گئیں۔اور مستورات کو مخاطب کر کے فرمایا کہ ان کے ساتھ چھوٹے چھوٹے بچے ہیں اس لئے تیز نہیں چل سکتیں۔اس میں کیا اعتراض ہے۔ابھی تم سب ان کے میاں کی تقریرین کر " سبحان اللہ سبحان اللہ کرتی تھیں لیکن اب اعتراض کرتی ہو۔۳۲ دوسروں کی خوشی غمی میں شریک مکرمہ حمیدہ صابرہ صاحبہ بنت ڈاکٹر فیض علی صابر صاحب وو میرے والدین پر آپ کی نظر شفقت بہت زیادہ تھی۔آپ ان کا بہت خیال رکھتیں۔والدہ صاحبہ بھی آپ سے بہت محبت کرتی تھیں اور ضرورت پڑنے پر آپ سے مشورہ لیتیں اور پھر اُس مشورہ کے مطابق عمل کرتیں میری والدہ محترمہ کو حضرت اماں جان کی خدمت کا بہت شوق تھا۔وہ گھر میں لگے ہوئے درخت آم ہسنگترے ، امرود، انگوروں وغیرہ کی اچھی طرح دیکھ بھال صرف اِس نیت سے کرتی تھیں کہ پھل آئے اور میں حضرت اماں جان کو کھلاؤں۔قادیان میں ہمارے صحن میں ایک اچھی قسم کا آم تھا اور وہ حضرت اماں جان کو بہت پسند تھا۔جب اس پر آم لگتے حضرت والد صاحب اور والدہ صاحبہ اس کی بہت نگرانی کرتے۔بچوں کو اُس درخت کے آم توڑنے کی اجازت نہ تھی اور جو جو دانہ آم کا پکتا حضرت اماں جان کی خدمت میں پیش کر دیا جاتا۔ایک دفعہ سردیوں کے موسم میں سیر سے واپسی پر حضرت اماں جان ہمارے گھر تشریف لائیں۔والدہ صاحبہ نے حضرت اماں جان کی دستی چھڑی سے سنگترے تو ڑے آپ خود جُھک جھک کر سنگترے اُٹھاتی تھیں اور فرماتیں۔” بیٹی ! بس بھی کروکیا سارے سنگترے مجھے ہی تو ڑ کر دے دو گی۔بچوں کے لئے بھی رہنے دو۔“ حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا کو میری والدہ صاحبہ کے ہاتھ کے پکے ہوئے کریلے بہت پسند تھے۔والدہ صاحبہ نے کئی دفعہ کریلے پکا کر آپ کو کھلائے۔گھر میں جب بھی کوئی خاص چیز پکتی۔