سیرت حضرت اماں جان — Page 110
110 کہتیں۔اگر کسی خاتون نے کوئی پہننے کی چیز آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر پیش کی تو اُسی وقت اس چیز کو پہن کر تحفہ دینے والی خاتون کی خوشی کی موجب بن جاتیں۔۱۹۱۷ء میں آں سیدہ مع حضرت میر محمد اسحاق میاں ناصر احمد اور سیدہ نصیرہ بیگم پٹیالہ تشریف لے گئیں اور تین دن تک ہمیں خدمت کا موقعہ دیا اس موقعہ پر آپ کا قرآن کریم کے ایک حکم پر عمل کرنے کا پتہ چلا وہ یہ کہ حضور نے قیدیوں کو کھانا کھلانے کے انتظام کا فرمایا میں نے اپنے سول سرجن کے ذریعہ انتظام کرا دیا سیدہ نے پچاس روپے کی رقم عنایت فرمائی۔صبر وشکر اب میں سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے متعلق بعض اہم باتیں بیان کرتا ہوں۔۲۶ رمئی ۱۹۰۸ ء کا وہ دن ہے جو جماعت احمدیہ کے لئے سخت غم واندوہ کا دن تھا جس وقت ہمارا پیارا مسیح علیہ الصلوۃ والسلام ہم سے ہمیشہ کے لئے جدا ہو رہا تھا۔ایسے نازک وقت میں حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا نے جو الفاظ منہ سے نکالے یہ تھے دیا اللہ ! یہ تو ہمیں چھوڑ رہے ہیں پر تو ہمیں نہ چھوڑی۔اطاعت امیر تیسری چیز جو آپ کے وجود سے جماعت کو میسر آئی جس سے جماعت کو استقلال حاصل ہوا اور بداندیش دشمن خائب و خاسر رہا یہ تھی کہ آپ رضی اللہ عنہا نے حضرت خلیفہ اول کی پوری اطاعت تمام وقت تک کی پھر جب خلافت ثانیہ وقوع میں آئی جو آپ کے فرزند ارجمند کے ذریعہ قائم ہوئی تو آپ نے اس خلیفہ کی بیعت بھی اُسی رضا ورغبت کے ساتھ کی جیسا کہ حضرت خلیفہ اول کی کی تھی اور کمال اطاعت کا ثبوت بہم پہنچایا۔ایسے واقعات ہمارے سامنے ہیں کہ جب کبھی خلیفہ ثانی ہاں آپ کے بیٹے نے کسی بات سے آپ کو روکا تو آپ فورارک گئیں یہ خلیفہ وقت اپنی ذکاوت اور اپنی انتظامی قوت کے لحاظ سے بہت بلند و برتر ہستی ہیں اس لئے آپ کے ساتھ آپ کی والدہ کا اطاعت گزاری کے رنگ میں چلے چلنا نہایت مشکل امر تھا مگر آپ رضی اللہ عنہا نے اس کو نباہ دیا اور جماعت میں اعلیٰ درجہ کی یگانگت کا موجب بنیں۔