سیرت حضرت اماں جان — Page 111
111 تربیت اولاد چوتھی بات جو آپ کے وجود مبارک سے جماعت احمد یہ اور اسلام کو میسر آئی یہ تھی کہ آپ نے جب دیکھا کہ آپ کا فرزند پیارا محمود بچپن سے ہی اپنے پیارے والد علیہ الصلوۃ والسلام پر فدا ہے اور حضور کے کاموں میں پور امد گار بنا ہوا ہے اور اپنی جان کو اسی طرح اسلام کے لئے لڑا رہا ہے جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی جان خرچ کی تھی اور دیکھا کہ یہ اپنی اولاد کی خبر گیری نہ کر سکے گا تو آپ ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے بڑے بیٹے صاحبزادہ مرزا ناصر احمد سلمہ کو آپ نے اپنا بیٹا بنالیا اور ان کی تربیت میں اسی طرح لگ گئیں جس طرح ایک وقت میں اپنے پیارے محمود کی تربیت کی تھی آج ہم اس عزیز کو حضرت محمود ایدہ اللہ کا بیٹا کہہ کے پکارتے ہیں۔لیکن مشاہدہ کرنے والی دور بین آنکھیں آدھا بیٹا سیدہ ام المومنین کا کہنے پر مجبور ہوں گی کوئی کیا جانے کہ کسی پیار اور کس محبت سے آں سیدہ نے اس پیارے کو رکھا اور کیا ہی اعلیٰ تربیت دی کہ وہ آج ہماری آنکھوں کا تارا ہے ہاں ایک بڑا روشن ستارہ ہے اور آج وہ اپنے والد ایدہ اللہ بنصرہ العزیز جن کا مرتبہ ہمارے اندازہ سے بہت بلند ہے دست و باز و بنا ہوا ہے۔زوجہ مطہرہ پانچواں احسان جو آپ کے وجود سے ظاہر ہوا یہ ہے کہ آپ دہلی کے مشہور معزز خاندان سادات کی صاحبزادی تھیں۔آپ نے جبکہ آپ کی عمر چودہ پندرہ سال کی تھی ایک ایسے شخص کو جن کی عمر چالیس سال کے قریب تھی اور جو کہ پنجابی تھے۔اور نہایت چھوٹے سے گاؤں کے رہنے والے تھے اپنی زوجیت کے لئے منظور فرمالیا اور اپنے نانامہ کی پیشگوئی کے پورا کرنے کا موجب بنیں اور ایک مبارک نسل کی ماں بنیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تو سیدہ کو فرماتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر کریں کہ اس نے انہیں اپنے مسیح کیے لئے چن لیا جیسا کہ اس شعر سے پتہ چلتا ہے۔چن لیا تو نے مجھے اپنے مسیحا کے لئے لیکن اللہ تعالی نے آپ علیہ الصلوۃ والسلام کو ارشاد فرماتا ہے