سیرت حضرت اماں جان — Page 109
غرباء پروری 109 میں اپنے مشاہدہ کی بنا پر کہتا ہوں کہ آپ ہمسایوں یا بعض اوقات دور کے گھروں میں بلکہ غریب سے غریب گھر میں تشریف لے جاتیں۔آپ کے چند لحوں کی آمد سے اہل خانہ کی عید ہو جاتی ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس گھر کی قسمت جاگ اُٹھی ہے جس میں تشریف لے جاتیں میرے گھر میں بھی جتنی دفعہ آتیں اور عید بنا کر چلی جاتیں۔اپنے خدام کے ہاں شادی کے موقعہ پر پوری خوشی سے حصہ لیتیں اور آپ کے اس عمل سے اہل شادی کی خوشی میں بہت اضافہ ہو جاتا ایسا ہی نفی کے موقعہ پر بھی نہایت احسن طریق پر غمخواری کرتیں۔پڑوسی سے حسن سلوک آں سیدہ کو میں نے اپنی خادمات یا خدام کو کبھی بھی ایسے رنگ میں سخت ست کہتے نہیں سنا جیسا کہ دوسرے لوگ اپنی بڑائی کی وجہ سے کر یہ طور پر غصہ کا اظہار کیا کرتے ہیں۔میں نے آپ کو اپنے خادموں کی خصوصاً دیرینہ خادموں کی قدردانی کرتے پایا سیدہ کے خادموں میں ایک میاں نور محمد مرحوم پر ا نا خادم تھا۔اس کو میں نے ہمیشہ خوش و خرم پا یا کبھی کسی قسم کا شکوہ شکایت کرتے نہ سنا۔جب آں مرحوم کے کپڑوں کو آگ لگ جانے کی وجہ سے جسم کے جھلس جانے کا حادثہ پیش آیا تو آں سیدہ سخت بے قرار ہو گئیں۔اور اس کے علاج معالجہ میں کافی امداد فرمائی مگر وہ فوت ہو گئے۔سیدہ نے اُن کی بیوہ کو تا زیست اپنے پاس رکھا حالانکہ وہ مخبوط الحواس تھی اور کوئی کام نہ کرتی تھی۔پرورش یتامیٰ ومساکین پھر میں نے دیکھا کہ جو بچیاں آں سیدہ کی خدمت میں رہتی تھیں وہ بہت خوش و خرم رہتی تھیں اور اپنے گھروں میں جانے کا نام نہ لیتی تھیں حتی کہ وہ نکاح کے قابل ہو جاتیں تو خود ہی اُن کی شادی کا انتظام کرتیں ایسی کئی خواتین اب بھی موجود ہیں۔میں نے سیدہ کا یہ عمل بھی نوٹ کیا کہ جب کوئی خادم کوئی چھوٹے سے چھوٹا تحفہ بھی پیش کرتا تو خوب اونچی آواز سے جزاکم اللہ