سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 272 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 272

272 دے گا۔چنانچہ چھ ماہ کا عرصہ بھی نہیں گزرا تھا کہ خدا تعالیٰ نے اسے بہت جلد خلاصی دے دی۔یہی وہ محمودہ ہے جواب ماسٹر محمد ابراہیم صاحب خلیل کے عقد میں آکر اور مبلغہ بن کر اس وقت اپنے شوہر کے ہمراہ فری ٹاؤن افریقہ میں تبلیغ کا کام کر رہی ہے۔یہ حضرت اماں جان کی محض دعاؤں کا نتیجہ ہے۔میری چچازاد بہن شادی کے بعد نو سال کے قریب بے آباد در ہی۔نو سال وہ لڑکی یہاں ربوہ میں جلسہ سالانہ پر آئی۔اور حضرت اماں جان کی خدمت میں حاضر ہو کر دعا کی درخواست کی۔اماں جان نے دعا فرمائی۔خدا تعالیٰ کا فضل ہوا کہ تھوڑے عرصہ کے بعد اسے سسرال اپنے گھر لے گئے اور راضی خوشی بسنے لگی۔اب اسے اللہ تعالیٰ نے لڑکا عطا فرمایا ہے۔جوفریقین کی خوشنودی کا باعث ہو رہا ہے۔غرض حضرت اماں جان نہایت مستجاب الدعوات تھیں۔۱۶۱ محترمہ صغریٰ بیگم صاحبہ کراچی لکھتی ہیں کہ : ایک مرتبہ حضرت اماں جان دہلی تشریف لائی ہوئی تھیں۔خاکسارہ نے دعوت کے لئے عرض کیا۔چنانچہ آپ نے از راہ شفقت و عنایت دعوت قبول فرمائی اور تقریبا تمام دن قیام فرمایا۔دوران گفتگو کوئی تمیں سال پہلے کا ذکر فرمایا کہ ہم نے لدھیانہ میں بھی آپ کے ہاں دعوت کھائی تھی۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کے چند سال بعد کا ذکر ہے اور گھر کا تمام نقشہ بیان کیا۔جس سے آپ کی یادداشت اور توجہ اور دعاؤں کا پتہ چلتا ہے۔تمام دن ہی محبت سے باتیں کیں اور دعائیں دیں۔میری ایک لڑکی سخت بیمار اور مہینوں سے بستر پر پڑی تھی۔بالکل چل پھر نہیں سکتی تھی۔آپ نے جاتے وقت دعا دی کہ اب میں دوبارہ آؤں گی تو انشاء اللہ تمہیں چلتا پھرتا دیکھوں گی۔اور بطور تبرک ایک ریشمی رومال عطا فر مایا۔چنانچہ حضرت اماں جان جب دوسرے سال تشریف لائیں تو وہ لڑ کی تندرست تھی اور چلتی پھرتی تھی اور اب بھی اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے تندرست ہے اور اس کی شادی ہو چکی ہے۔آپ کی یادداشت کمال درجہ کی تھی ہمارے صحن میں کچھ حصہ میں پکا فرش تھا اس سال ہم نے دو تین گز اور بڑھالیا۔اگلے سال آپ تشریف لائیں تو فرمایا کہ پچھلے سال تو فرش یہاں تک تھا اب یہ اور زیادہ کر لیا ہے۔؟۱۶۲ اہلیہ حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب حضرت اماں جان کی قبولیت دعا پر مجھ نا چیز کو کامل یقین تھا ہر مشکل وقت میں اماں جان کی خدمت