سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 163 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 163

163 تھا۔اور آپ اپنے سب دنیاوی ، قریبی رشتہ داروں سے جو وحی الہی میں عمالیق کے نام سے یاد کئے گئے ہیں ہر طرح سے محفوظ ومصئون رہے۔اور اللہ تعالیٰ کے وعدہ اور آپ کی دعا کی قبولیت کے نتیجہ میں آہستہ آہستہ آپ کی تمام مخالفت جاتی رہی ، اور آپ کے مخالف یکے بعد دیگرے آپ کے عقیدت مندوں میں داخل ہوتے گئے یہاں تک کہ حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کو بھی بیعت میں ایک لمبا عرصہ تک تو قف ہو جانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کے لخت جگر محمود کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی توفیق دیدی۔اور تائی صاحبہ کو بھی بیعت کرنے کی سعادت مل گئی۔اور مرز اگل محمد صاحب بھی آپ کے تابع ہو گئے۔اور آہستہ آہستہ قادیان کے باقی ماندہ مغلیہ خاندان کے تمام افراد آپ کے ارادت مندوں میں داخل ہو گئے۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا سلسلہ بھی جو دشمنوں اور حاسدوں کی نظر میں تقریباًنا بود ہو گیا تھا۔حضرت حکیم مولوی نورالدین رضی اللہ عنہ کے ذریعہ اس کی تجدید ہوگئی اور سلسلہ خلافت بلا کسی معاوضہ کے ظہور پذیر ہو گیا۔اور گرتی ہوئی جماعت خدا تعالیٰ نے سنبھال لی۔اور قادیان میں آنے والوں اور مال و تحائف لانے والوں کی تعداد روز بروز زیادہ ہوتی گئی۔اگر ۱۹۰۷ء میں قادیان میں جلسہ سالانہ پر آنے والے مردان خدا کی تعداد سات آٹھ سو کے قریب تھی۔تو ۱۹۱۳ء میں بارہ تیرہ سو ہو گئی ، اور ۱۹۳۹ء میں چالیس ہزار کے قریب ہوگئی۔اور ان مردانِ خدا میں سے ہر ایک اسی طرح حضرت اُم المومنین علیہا السلام کے لئے اپنی جان نثار کرنے کو تیار تھا۔جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے اپنی جان نثار کرنے کو اپنے لئے باعث فخر سمجھتا تھا۔اور آپ کے وہی بچے جو ۲۶ رمئی ۱۹۰۸ء کے روز چھوٹے چھوٹے بچے نظر آتے تھے اور جن کا مستقبل اس وقت بظاہر نظر تاریک نظر آتا تھا۔دنیا میں آپ کی زندگی میں ہی سورج چاند کی طرح چمکے۔حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب کو اللہ تعالیٰ نے حضرت خلیفہ اسیج اول رضی اللہ عنہ کا نورنظر بنایا۔مجلس معتمدین کا ممبر تو آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صدرانجمن احمد یہ قادیان قائم کرتے وقت ہی بنادیا تھا۔حضرت خلیفتہ المسیح اول نے آپ کو اپنی جگہ پریذیڈنٹ بھی بنادیا۔امامت جماعت کا منصب بھی بوقت ضرورت آپ کے سپرد کرتے رہے۔پھر جماعت احمدیہ کی اکثریت کے دل بھی آپ کی طرف مائل ہو گئے۔پھر ۱۹۱۴ء میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا خلیفہ ثانی