سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 162 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 162

162 اس وقت یہ یقین کرنا کہ اب قادیان کی طرف لوگوں رجوع کا ہوگا۔اور قادیان پھر ارض حرم کا نظارہ پیش کرے گی اور مال و تحائف آتے چلے جائیں گے۔اس کی بھی دنیاوی نقطہ نظر سے کوئی امید نہیں تھی۔پھر اس بات کا خیال کرنا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا وہ مشن پورا ہوگا۔جس کے لئے آپ مبعوث کئے گئے تھے۔اور آپ کے سلسلہ کا آپ کی وفات کے بعد قائم رہ جانا، یہ بھی دنیا داروں کی نظر میں ایک عجوبہ سے کم نہ ہوگا۔پھر اگر یہ بھی مد نظر رکھا جائے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بڑے بیٹے حضرت میرزا سلطان احمد صاحب نے تو اس وقت تک آپ کی بیعت نہیں کی تھی۔اور حضرت ام المومنین کے بچے ابھی چھوٹی عمر میں تھے۔حضرت میرزا محموداحمد صاحب کی عمر اس وقت تقریباً بیس سال تھی۔اور حضرت میرزا بشیر احمد صاحب کی عمر پندرہ سال تھی اور حضرت میرزا شریف احمد صاحب کی عمر ۱۴ سال کی تھی۔اور یہ تینوں ابھی اس قابل نہ تھے کہ اپنی جائداد کی بھی نگرانی کر سکیں اور عمالیق سے اپنا حصہ بقوت علم یا بزور بازو لے سکیں۔الغرض ہر لحاظ سے مشکلات ہی مشکلات تھیں اور ان مشکلات کا حل کرنا بھی سوائے خدا تعالیٰ کے اور کسی کے ہاتھ میں نہ تھا۔مگر ہماراوہ خدا جس نے اپنے برگزیدہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ خبر دے رکھی تھی اِنّى مَعَكَ ومع أهلك هذه میں تیرے ساتھ اور تیری اس بیوی (نصرت جہاں بیگم ) کے ساتھ ہوں۔اور اس خبر و بشارت کو متعد دمرتبہ دہرایا تھا، کب آپ کی اہلیہ کو چھوڑ سکتا تھا ؟ اس لئے اس نے اپنی خدیجہ حضرت اُم المومنین کی دعا کو سنا اور تمام مشکلات کو دور کر دیا اور حضرت اُم المومنین کو بے نصرت و بے مدد نہ چھوڑا۔لا ہور شہر میں ہی حضرت ام المومنین علیہا السلام نے یہ دعا کی تھی۔کہ یا الہی یہ تو ہمیں چھوڑے جار ہے ہیں پر تو ہمیں نہ چھوڑیو! اور لاہور شہر سے ہی اس کی قبولیت کا اثر ظاہر ہونا شروع ہوا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا جسد اطہر بلا کسی خاص تکلیف کے چھ سات لاکھ لاہوریوں سے بچ کر نہایت عزت و احترام کے ساتھ قادیان میں پہنچ گیا۔اور حضرت اُم المومنین علیہا السلام آپ کے حواریوں کی معیت ورفاقت میں قادیان میں پہنچ گئیں۔اور پہلی مرتبہ اس دعا کی قبولیت ظاہر ہو گئی۔پھر قادیان بھی آپ کے لئے وہی قادیان رہا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں