سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 75 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 75

75 کہا کرتی تھیں۔کہ میرے آنے کے ساتھ ہی آپ کی زندگی میں برکتوں کا دور شروع ہوا ہے۔جس پر حضرت مسیح موعود ہنس کر فرماتے تھے۔کہ ”ہاں یہ ٹھیک ہے۔“ حضرت اُم المومنین رضی اللہ عنہا کے اخلاق فاضلہ اور آپ کی نیکی اور تقویٰ کو مختصر الفاظ میں بیان کر نا ممکن نہیں مگر اس جگہ میں صرف اشارہ کے طور پر نمونہ چار باتوں کے ذکر پر اکتفا کرتا ہوں۔آپ کی نیکی اور دینداری کا مقدم ترین پہلونماز اور نوافل میں شغف تھا۔پانچ فرض نمازوں کا تو کیا کہنا ہے حضرت اماں جان نماز تہجد اور نماز ضحی کی بھی بے حد پابند تھیں اور انہیں اس ذوق اکثر نو جوانوں کے لئے قابل تقلید نمونہ ہے۔مهمان نوازی مہمان نوازی بھی حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا کے اخلاق کا طرہ امتیاز تھا اپنے عزیزوں اور دوسرے لوگوں کو اکثر کھانے پر بلاتی رہتی تھیں اور اگر گھر میں کوئی خاص چیز پکتی تھی تو ان کے گھروں میں بھی بھجوا دیتی تھیں خاکسار راقم الحروف کو علیحدہ گھر ہونے کے باوجود حضرت اماں جان نے اتنی دفعہ اپنے گھر سے کھانا بھجوایا ہے کہ اس کا شمار ناممکن ہے۔اور اگر کوئی عزیز یا کوئی دوسری خاتون کھانے کے وقت حضرت اماں جان کے گھر میں جاتی تھیں۔تو حضرت اماں جان کا اصرار ہوتا تھا۔کہ کھانا کھا کر واپس جاؤ چنانچہ اکثر اوقات زبر دستی روک لیتی تھیں۔ایسا معلوم ہوتا تھا کہ مہمان نوازی ان کی روح کی غذا ہے۔عیدوں کے دن حضرت اماں جان کا دستور تھا کہ اپنے سارے خاندان کو اپنے پاس کھانے کی دعوت دیتی تھیں اور ایسے موقعوں پر کھانا پکوانے اور کھانا کھلانے کی بذات خود نگرانی فرماتی تھیں اور اس بات کا بھی خیال رکھتی تھیں کہ فلاں عزیز کو کیا چیز مرغوب ہے اور اس صورت میں حتی الوسع وہ چیز ضرور پکواتی تھیں۔جب آخری عمر میں زیادہ کمزور ہو گئیں تو مجھے ایک دن حسرت کے ساتھ فرمایا کہ اب مجھ میں ایسے اہتمام کی طاقت نہیں رہی میرا دل چاہتا ہے کہ کوئی مجھ سے رقم لے لے اور کھانے کا انتظام کردے۔وفات سے کچھ عرصہ قبل جب کہ حضرت اماں جان بے حد کمزور ہو چکی تھیں۔اور کافی بیمار تھیں مجھے ہماری بڑی ممانی صاحبہ نے جو ان دنوں حضرت اماں جان کے پاس ان کی