سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 76 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 76

76 عیادت کے لئے ٹھہری ہوئی تھیں فرمایا کہ آج آپ یہاں روزہ کھولیں۔میں نے خیال کیا کہ شاید یہ اپنی طرف سے حضرت اماں جان کی خوشی اور ان کا دل بہلانے کے لئے ایسا کہہ رہی ہیں۔چنانچہ میں وقت پر وہاں چلا گیا تو دیکھا کہ بڑے اہتمام سے افطاری کا سامان تیار کر کے رکھا گیا ہے۔اس وقت ممانی صاحبہ نے بتایا کہ میں نے تو اماں جان کی طرف سے ان کے کہنے پر آپ کو کہا تھا۔آپ میں بے حد محنت کی عادت تھی حضرت اماں جان رضی اللہ عنہا میں بے حد محنت کی عادت تھی اور ہر چھوٹے سے چھوٹا کام اپنے ہاتھ سے کرنے میں راحت پاتی تھیں۔میں نے انہیں اپنی آنکھوں سے بار ہا کھانا پکاتے۔چرخا کاتے۔نواڑ بنتے۔بلکہ بھینسوں کے آگے چارہ تک ڈالتے دیکھا ہے۔بعض اوقات خود بھنگنوں کے سر پر کھڑے ہوکر صفائی کرواتی تھیں۔اور ان کے پیچھے لوٹے سے پانی ڈالتی جاتی تھیں۔مریضوں کی عیادت کا یہ عالم تھا کہ جب کبھی کسی احمدی عورت کے متعلق یہ منتیں کہ بیمار ہے تو بلا امتیاز غریب وا میر خود اس کے مکان پر جا کر عیادت فرماتی تھیں اور آنحضرت ﷺ کی سنت کے مطابق تسلی دیا کرتی تھیں کہ گھبراؤ نہیں خدا کے فضل سے اچھی ہو جاؤ گی۔ان اخلاق فاضلہ کا یہ نتیجہ تھا کہ احمدی عورتیں اماں جان پر جان چھڑکتی تھیں۔اور ان کے ساتھ اپنی حقیقی ماؤں سے بھی بڑھ کر محبت کرتی تھیں۔اور جب کوئی فکر کی بات پیش آتی تھی یا کسی امر میں مشورہ لینا ہوتا تھا۔تو حضرت اماں جان کے پاس دوڑی آتی تھیں۔اس میں ذرہ بھر بھی شبہ نہیں کہ حضرت اماں جان کا مبارک وجود احمدی مستورات کے لئے ایک بھاری ستون تھا۔بلکہ حق یہ ہے کہ ان کا وجود محبت اور شفقت کا ایک بلند اور مضبوط مینار تھا جس کے سایہ میں احمدی خواتین بے انداز راحت اور برکت اور ہمت پاتی تھیں۔تقومی ، توکل اور دینداری مگر غالباً حضرت ام المومنین رضی اللہ عنہا کے تقویٰ اور تو کل اور دینداری اور اخلاق کی بلندی کاسب سے زیادہ شاندار مظاہرہ ذیل کے دو واقعات میں نظر آتا ہے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے بعض اقرباء پر اتمام حجت کی غرض سے خدا سے علم پا کر محمدی بیگم والی پیشگوئی فرمائی تو اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دیکھا کہ حضرت ام المومنین علیحدگی میں نماز پڑھ کر بڑی -