سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 74 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 74

74 وو اور بھلانے والی نہیں۔اور بالآخر ” خدیجہ" کا لفظ فرما کر اس بات کا اظہار فرمایا ہے کہ حضرت اماں جان کا وجود اپنی برکات اور افضال کے لحاظ سے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مثیل ہے۔اور خدیجہ کے ساتھ پھر دوبارہ ” میری“ کا لفظ بڑھا کر اپنی غیر معمولی محبت اور حضرت اماں جان کے غیر معمولی قرب کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور جیسا کہ ہر مسلمان جانتا ہے حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی یہ شان ہے۔کہ وہ نہ صرف اپنی ذاتی خوبیوں میں نہایت بلند مرتبہ رکھتی تھیں اور آنحضرت ﷺ کی بے حد جاں نثار اور وفا دار اور خدمت گزار اور رفیق کار اور سمجھدار زوجہ تھیں۔جنہوں نے ہر تنگی اور ترشی میں آپ کا ساتھ دیا اور ابتدائی گھبراہٹ کی گھڑیوں میں بینظیر طریق پر کی دلداری اور ہمت افزائی فرمائی بلکہ یہی وہ اکیلی مقدس زوجہ محترمہ تھیں۔جن سے آپ کی مبارک نسل کا سلسلہ چلا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت اُم المومنین کے متعلق بھی اپنے آمین والے اشعار میں نسلِ سیّدہ کے الفاظ فرما کر اسی حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے۔بلکہ حدیث میں جو الفاظ خود آنحضرت علیہ نے آنے والے مسیح کے متعلق يَتَزَوَّجُ وَيُولَدُلَهُ کے فرمائے ہیں ( یعنی مسیح شادی کرے گا اور اس کے اولاد ہوگی ) ان میں بھی درحقیقت اسی نکتہ کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے۔آپ کا امتیاز حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو یہ امتیاز بھی حاصل ہے کہ ان کی شادی ۱۸۸۴ء میں ہوئی تھی۔اور یہی وہ سال ہے جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے دعوئی مجد دیت کا اعلان فرمایا تھا۔اور پھر سارے زمانہ ماموریت میں حضرت اماں جان مرحومہ مغفورہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی رفیقہء حیات رہیں۔اور حضرت مسیح موعود انہیں انتہا درجہ محبت اور انتہا درجہ شفقت کی نظر سے دیکھتے تھے۔اور ان کی بے حد دلداری فرماتے تھے۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ زبردست احساس تھا کہ یہ شادی خدا کے خاص منشاء کے تحت ہوئی ہے اور یہ کہ حضور کی زندگی کے مبارک دور کے ساتھ حضرت اماں جان کو مخصوص نسبت ہے۔چنانچہ بعض اوقات حضرت اماں جان محبت اور ناز کے انداز میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے