سیرت حضرت اماں جان — Page 64
99 64 (۳) میں نے دیکھا کہ ہم قادیان میں صرف چند گھنٹوں کے لئے گئے ہیں پھر ہم نے واپس آنا ہے۔میں گھر سے باہر دوستوں سے ملاقات کر کے جلدی سے اندر آیا ہوں تا کہ ہم روانہ ہو جائیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قادیان میں ریل نہیں بلکہ وہی پرانا زمانہ ہے جب بٹالہ سے ریل پر سوار ہونا پڑتا تھا۔میں جب اُس مکان کے پاس پہنچا۔جس کو گول کمرہ کہتے ہیں۔اور جو موجودہ دفتر سے پہلے میرا دفتر ہوا کرتا تھا۔تو میں نے دیکھا کہ وہاں کمرے کے پاس کی کوٹھڑی میں چھوٹی چھوٹی چوکیاں لگی ہوئی ہیں۔اور اُن پر چائے کا سامان کیک اور پیٹریاں وغیرہ پر تکلف سامان پڑا ہے۔میں خیال کرتا ہوں کہ یہاں ہمارے گھر کے لوگوں کو ناشتہ کروایا گیا ہے۔مگر میں نے وہاں آدمی کوئی نہیں دیکھا۔کھانے کی چیزیں بہت سی پڑی ہیں۔لیکن پیالیاں وغیرہ مستعمل معلوم ہوتی ہیں۔جیسا کہ لوگ ناشتہ کر چکے ہیں۔میں فوراً اُس کمرہ سے نکل کر مسجد مبارک کی سیڑھیوں پر چڑھ کر گھر میں گیا ہوں۔وہاں جا کر میں نے سب لوگوں سے کہا کہ دیر ہوگئی ہے۔دو کہے کہ تین کہے کہ اتنے بج گئے ہیں۔بٹالہ میں ہم نے جا کر گاڑی پر سوار ہونا ہے اور تم لوگ دیر کر رہے ہو۔اس پر انہوں نے تیاری شروع کی۔میں نے اُن سے پوچھا۔کہ کیا جانے کے لئے سواریوں کا بھی انتظام ہے۔انہوں نے جواب دیا کہ چھ تھیں ہم نے تیار کی ہیں۔میں نے کہا۔کہ رتھ تو تین سے پانچ گھنٹے تک پہنچتی ہے۔اس سواری پر تو رات ہو جائے گی۔مگر انہوں نے کہا۔کہ یہی رکھیں ہماری پرانی موجود تھیں۔انہیں میں ہم نے انتظام کیا ہے۔گویا خواب میں میں سمجھتا ہوں۔کہ جب ہم قادیان میں ہوتے تھے۔تو ہماری بہت سی رتھیں ہوتی تھیں۔گو ظاہر میں ایسا نہیں تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے وقت ایک رتھ ہمارے گھر میں تھی۔بعد میں وہ بھی فروخت کر دی گئی تھی۔(ل) ۲۲ ۲۳ اپریل (۱۹۵۲ء) کی شب کو میں نے رویا میں دیکھا کہ ایک بہت بڑا ہال ہے۔اُس میں حضرت اُم المومنین رضی اللہ عنہا کی چار پائی ہے۔ہال کے درمیان میں یعنی اُس کی دیواروں