سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 65 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 65

65 سے ہٹ کر چار پائی رکھی ہوئی ہے پائنتی کی طرف میاں بشیر احمد صاحب بیٹھے ہیں اور سامنے فرش پر کچھ اور عورتیں بیٹھی ہیں۔میں کمرے میں داخل ہوا۔تو میں نے دیکھا کہ اُن کی طبیعت اچھی معلوم ہوتی ہے۔بیماری نہیں صرف ضعف ہے۔اس لئے وہ لیٹی ہوئی ہیں۔اور اوپر کمبل اوڑھا ہوا ہے۔میں جب داخل ہوا تو کسی شخص نے جو نظر نہیں آتا۔کہ وہ کون ہے یا کوئی فرشتہ یا روح ہے۔آپ کو مخاطب کر کے اور میری طرف اشارہ کر کے یہ الفاظ کہے کہ آپ کو ایک ایسا بیٹا ملا ہے جو روحانی آسمان پر ستارہ بن کر چمک رہا ہے۔کہ کوئی ایسا کیا چپکے گا۔“ اس کے بعد حضرت اُم المومنین میری طرف مخاطب ہوئیں اور کہا بس۔بس کے لفظ کے آگے انہوں نے کچھ نہیں کہا۔لیکن اس وقت میں یہ سمجھتا ہوں کہ بس کا لفظ دو طرح استعمال ہوتا ہے۔ایک بات کے خاتمہ پر اور ایک بات کے ابتداء میں۔تو وہ بس جو انہوں نے استعمال کیا ہے۔وہ بات کے خاتمہ کا نہیں۔جیسے کہتے ہیں ”بس بات تو یہ ہے کہ اس بس کے معنی خلاصہ کلام کے ہوتے ہیں۔خاتمہ ء کلام کے نہیں ہوتے۔تو میں ذہن میں یہی سمجھتا ہوں کہ یہ بس خلاصہ ء کلام کے معنوں میں ہے۔خاتمہ کلام کے معنوں میں نہیں۔اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔آجکل احرار وغیرہ چونکہ شور مچاتے رہتے ہیں۔ممکن ہے کہ اس رؤیا کو بھی کوئی غلط رنگ دے کر وہ لوگوں کے سامنے پیش کریں۔اس لئے میں ایسے بے دینوں کے لئے نہیں کیونکہ اُن کے اندر سے حیا اور شرم بالکل جاتی رہی ہے۔بلکہ صرف شریف لوگوں کے لئے کہتا ہوں۔کہ یہ جو الفاظ ہیں کہ کوئی ایسا کیا چمکے گا۔اس میں ستاروں کی طرف اشارہ ہے۔کوئی خبیث الفطرت آدمی اس کو محمد رسول اللہ لا اللہ کی طرف منسوب کر کے اس کے غلط معنے نہ لے لے۔محمد رسول اللہ علی اللہ کا نام قرآن کریم میں سورج آتا ہے۔اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اتباع آگے ستارے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس رویا میں یہ خبر دی ہے کہ اس زمانہ میں رسول کریم ﷺ کے اتباع میں سے جو نور اور روشنی مجھے ملی ہے وہ کسی اور کو نہیں ملی۔اور یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ اگر کوئی شخص مدعی ہے تو وہ آگے آئے اور بتائے کہ اس کو اسلام کی خدمت اور قرآن کریم کی اشاعت کے لئے کیا تو فیق ملی اور اس کے ذریعے کتنے آدمی اسلام میں داخل ہوئے۔اگر کوئی اس بات کو ثابت کر دے تو بیشک اس کا دعوی سچا ہوگا۔ورنہ اس کو ماننا پڑے گا کہ اس زمانہ میں اسلام کی