سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 63 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 63

99 63 (٢) انہی ایام میں یا سندھ کے دنوں میں میں نے رویا دیکھا کہ : میں ہندوستان گیا ہوں اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہاں کی جماعتوں نے ہندوستان کی حکومت سے مل کر کوئی انتظام کیا ہوا ہے کہ مجھے چند دن کے لئے آنے کی اجازت دیں۔جہاں میں گیا ہوں وہ قادیان نہیں ہے بلکہ وسط ہند کی کوئی جگہ ہے۔میں حیران ہوتا ہوں کہ اگر ان لوگوں نے میرے آنے کی اجازت لینی ہی تھی تو قادیان میں لیتے۔میرے پوچھنے پر مجھے بتایا گیا کہ اس انتظام کی دو وجہیں ہیں۔ایک تو یہ کہ یہ مرکزی جگہ ہے۔ہندوستان کی مختلف جماعتوں کے لوگ یہاں آکر مل سکیں گے۔اس بات کو سن کر مجھے خاص خوشی ہوئی اور فور اخیال آیا کہ برادرم سیٹھ عبداللہ بھائی کو ملے ہوئے مدت ہوئی وہ یہاں آکر ملاقات کرسکیں گے۔دوسری بات انہوں نے یہ بتائی کہ اس ضلع کا یا اس شہر کا افسر کوئی احمدی ہے یعنی ڈپٹی کمشنر یا سٹی مجسٹریٹ یا پولیس کا افسر یعنی ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ یا سپرنٹنڈنٹ پولیس۔پس شہر یا ضلع کے افسر کے احمدی ہونے کی وجہ سے انتظام میں زیادہ سہولت رہے گی۔جس جگہ پر ہمیں ٹھہرایا گیا ہے وہ بہت بڑی عمارت معلوم ہوتی ہے۔بہت بڑے بڑے ہال ہیں۔چنانچہ میں ایک چھت پر ہوں اور اردگرد بہت سے دوست ہیں۔چھت ایک وسیع میدان کی طرح نظر آرہی ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہزاروں آدمیوں کے ٹھہرانے کے خیال سے وہ مکان لیا گیا ہے۔وہ احمدی افسر جو اس جگہ پر ہیں وہ بھی مجھے نظر آئے اور میں نے ان سے باتیں کیں۔قدان کا چھوٹا ہے جسم موٹا تو نہیں لیکن گدرا ہے۔مگر ان کے سر پر پگڑی ہندووانہ طرز کی ہے جیسے مرہٹوں یا مارواڑیوں کی ہوتی ہے۔میں اس وقت دل میں تکلیف محسوس کرتا ہوں کہ یہاں مسلمانوں کو تکلیفوں سے بچنے کے لئے اپنے لباس بھی بدلنے پڑے ہیں۔اتنے میں میری آنکھ کھل گئی۔“ یہ رویا غالبا سندھ سے واپس آنے کے بعد دیکھی تھی بلکہ شاید رمضان کے شروع کی یا اس کے قریب کی رؤیا ہے۔