سیرت حضرت اماں جان

by Other Authors

Page 32 of 326

سیرت حضرت اماں جان — Page 32

32 تھوڑے وقفہ کے لئے تھوڑا فرق ہوا مگر پھر جلد ہی حالت خراب ہو گئی۔جس پر میں نے ران میں ایک ٹیکہ کیا مگر پھر بھی نبض کی حالت نہ سنبھلنی تھی نہ سنبھلی۔بلکہ اس وقت نبض محسوس ہونا بھی بند ہو چکی تھی۔اس کے بعد مکرم ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب نے بھی ایک ٹیکہ کیا لیکن جس بات کا فیصلہ آسمان میں مقدر ہو چکا تھا اُس کا وقت آن پہنچا تھا اور کوئی زمینی تدبیر اس کو اب ٹال نہ سکتی تھی۔چنانچہ ساڑھے گیارہ بجے شب میری پیاری اماں جان نے اس دنیا کا آخری سانس لیا اور اپنی سب اولاد اور اولاد در اولاد کو اپنے گرد روتے بلکتے ہوئے اس دنیا مں چھوڑ اپنے مولا سے جاملیں۔إنا لله وإنا اليه رَاجِعُونَ راضی برضائے الہی 66 بیماری کے حالات اختصار سے لکھنے کے بعد میں چاہتا ہوں کہ اس بیماری کے دوران میں جو کوئی خاص بات یا واقعہ ( میرے علم میں ) ہوا ہو اس کو ضبط تحریر میں لے آؤں۔سب سے اہم بات جس نے میرے دل پر گہرا اثر کیا یہ تھی کہ تقریباً دوماہ کی مسلسل بیماری میں ایک دن بھی اماں جان کے منہ سے کوئی مایوسی یا تکلیف کا کلمہ نہ نکلا اور جب بھی کسی نے آپ سے پوچھا کہ اماں جان طبیعت کیسی ہے؟ تو آپ نے یہی فرمایا کہ کہ اچھی ہے۔بلکہ اکثر یہی فرما تیں کہ بہت اچھی ہے۔میں خود حضرت اماں جان سے تقریب روزانہ ہی یہ پوچھتا کہ اماں جان آپ کی طبیعت کیسی ہے؟ آپ جواباً فرما تیں۔اچھی ہے۔بلکہ کئی دفعہ تو فرمایا کہ ” بہت اچھی ہے۔حتی کہ جب آپ کو ضعف بہت زیادہ ہو چکا تھا تو کئی دفعہ میرے پوچھنے پر سر کے اشارے سے فرماتیں ”اچھی ہے۔ٹیکے وغیرہ میں خود ہی حضرت اماں جان کو کرتا تھا اور پانچ اپریل سے تو وریدوں میں گلوکوز کے ٹیکے دونوں وقت ، پنسلین کے ٹیکے دن میں بار بار، حیاتین کے ٹیکے دل کی طاقت کے ٹیکے۔غرض دن میں آٹھ دس ٹیکے لگتے تھے مگر کبھی آپ نے ٹیکہ کروانے سے انکار نہیں کیا۔اور میرے ہاتھ سے ٹیکہ کی آپ کو عادت سی ہو گئی تھی۔کیونکہ اسی دوران میں چند ایک مرتبہ جب کسی دوسرے نے ٹیکہ کیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ کس نے ٹیکہ کیا ہے؟ ( آپ اکثر آنکھیں بند رکھتی تھیں اس لئے ٹیکہ کرنے والے کو عام طور پر دیکھتی نہ تھیں۔اسی طرح جب تین چار روز وریدوں میں گلوکوز کا ٹیکہ ( جو کہ حضرت اماں جان کے دل کی حالت کے پیش نظر بہت آہستہ آہستہ اور احتیاط