سیرت حضرت اماں جان — Page 31
31 چونکہ حضرت اماں جان کی حالت بہت تشویش ناک دور سے گزر رہی تھی اس لئے میں تو تقریباً چو میں گھنٹے آپ کے پاس ہی ہوتا اور مکرم ڈاکٹر حشمت اللہ خاں صاحب بھی اکثر وقت وہیں ہوتے۔اس کے ایک دن بعد حضرت اماں جان کے دل کی حالت سنبھل گئی۔مگر پھر دوسرے دن تنفس میں بے قاعدگی شروع ہوگئی جو اس حالت تک پہنچ گئی کہ ہم گھبرا گئے کہ شائد آخری وقت آن پہنچا ہے۔اُسی وقت خاکسار نے ایک ٹیکہ نفس کے لئے کیا جس سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے تنفس بہتر ہونا شروع ہو گیا اور شام تک تقریباً نارمل ہو گیا اس کے بعد سے آخری وقت تک یہی حالت رہی کہ جب کسی عضو جسم میں کوئی کمزوری معلوم ہوتی اس کے لئے فوری ٹیکہ کر دیا جاتا۔اور وقتی طور پر خدا تعالیٰ کے فضل سے وہ حالت دور ہو جاتی۔اسی اثناء میں حضرت امیر المومنین کی خواہش پر کہ دیسی طب کا علاج بھی کروانا چاہیئے شاید اللہ تعالیٰ اس سے شفا دے۔لاہور سے حکیم محمد حسن صاحب قرشی کو بلوایا گیا۔اُن کے ساتھ مکرم حکیم محمد حسین مرہم عیسی صاحب بھی تشریف لائے۔دونوں نے حضرت اماں جان کو اٹھارہ اپریل کی رات کو دیکھا اور اگلے دن لاہور جا کر اُسی کار کے ذریعہ جو ان کو پہنچانے گئی تھی ادویہ بھجوائیں۔جو ہیں اپریل کو شروع کر دی گئیں۔ہیں اپریل صبح چار بجے حضرت اماں جان کو پھر دل میں کمزوری کی علامات شروع ہوئیں جس کے لئے میں نے فوری ٹیکہ کیا اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے دس بجے دن تک حالت سنبھل گئی اور بقیہ حصہ دن حالت سنبھلی رہی بلکہ اس دن بخار بھی پہلے سے کم رہا۔مگر آہ کسے معلوم تھا کہ یہ آخری سنبھالا ہے اور ہماری اماں جان اسی رات ہم سے ہمیشہ کے لئے رخصت ہونے والی ہیں۔چنانچہ رات تقریباً نو بجے اماں جان نے کروٹ لی اور ساتھ ہی کرب کے ساتھ کراہتے ہوئے جیسے کوئی شدید تکلیف ہو اتنا کہا کہ مجھے ٹھنڈا پانی دو اور زور سے پنکھا کر و‘اور جب ہاتھ کا پنکھا لایا گیا تو فرمایا کہ دو نہیں چھت کا پنکھا ہلاؤ۔“ اسی وقت خاکسار نے اماں جان کی نبض دیکھی تو محسوس ہوا کہ حضرت اماں جان پر صدمہ (Shock) کی حالت طاری ہے۔چنانچہ اس کے لئے طاقت کا ٹیکہ فوری کیا۔دوبارہ دس منٹ بعد ٹیکہ کیا اور پھر پانچ منٹ بعد ایک اور ٹیکہ کیا۔ان ٹیکوں کے بعد نبض میں بہت